اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 15 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 15

15 بھی آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں تا آپ دیکھیں کہ اگر مولانا مودودی کی تعریف کی رو سے آج پاکستان کے مسلمانوں کے چہرے دیکھے جائیں تو ان پر مسلمان لکھا ہوا نظر آئے گایا کا فرلکھا ہوا نظر آئے گا؟ چونکہ موجودہ حکومت کا یہ دور مودودی نواز دور ہے اور مودودی اور وہابی طرز خیال کے علماء اس حکومت پر قبضہ کئے ہوئے ہیں، اس لئے یہ ضروری ہے کہ مودودی تعریف کو اس وقت آپ کے سامنے پیش کیا جائے۔مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم کے صفحہ ۱۳۰ پر مودودی صاحب فرماتے ہیں: وو یہ انبوہ عظیم جس کو مسلمان کہا جاتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے ۹۹۹ فی ہزار افراد نہ اسلام کا علم رکھتے ہیں نہ حق اور باطل کی تمیز سے آشنا ہیں۔نہ ان کا اخلاقی نقطہ نظر اور ذہنی رویہ اسلام کے مطابق تبدیل ہوا ہے۔باپ سے بیٹے اور بیٹے سے پوتے کو بس مسلمان کا نام ملتا چلا آ رہا ہے، اس لئے یہ مسلمان ہیں۔نہ انہوں نے حق کو حق جان کر اسے قبول کیا ہے۔نہ باطل کو باطل جان کر اسے ترک کیا ہے۔ان کی کثرت رائے کے ہاتھ میں باگیں دے کر اگر کوئی شخص یہ امید رکھتا ہے کہ گاڑی، اسلام کے راستے پر چلے گی تو اسکی خوش فہمی قابل داد ہے ( مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش۔بارششم۔اچھرہ (لاہور) مکتبہ جماعت اسلامی۔حصہ سوم۔صفحہ :۱۳۰) ۷۴ء میں جو واقعہ ہوا۔جو تعریف اسلام کی تعریف سمجھی گئی وہ انہی لوگوں کے ہاتھوں میں اسلام کی باگیں دینے کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔اس پر کوئی یہ خیال کر سکتا ہے کہ مولانا مودودی صاحب کا خیال یہ تھا کہ