اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 111
111 ہیں کہ ہر انسان کے ایمان لانے یا حق سے اعراض کرنے کا حساب خود اللہ تعالیٰ آخر کار لے گا کیونکہ وہی اپنے بندوں کے سینوں کے پوشیدہ رازوں اور دلوں کے حالات سے پوری طرح باخبر ہے“۔جو لوگ حضرت ابوبکر صدیق کی مرتدین کے خلاف حروب سے قتل مرتد کا جواز نکالتے ہیں انہیں جاننا چاہئے کہ اگر ہم ان حروب کے مختلف تاریخی پہلوؤں پر غور کریں تو پتہ چلے گا کہ وہ لوگ صرف مرتد نہ تھے بلکہ انہوں نے اسلامی معاشرہ کے اند رفتنہ کھڑا کر رکھا تھا اور ملک کے امن و امان کو برباد کر دیا تھا حتی کہ انہوں نے مدینہ کا محاصرہ بھی کر لیا تھا جس پر مجبور ہوکر ابوبکران کے مقابلہ پر نکلے اور انہیں ان کے محاصرہ سے نکالا۔اس سے ثابت ہوا کہ بات صرف اتنی سے نہ تھی کہ چندا فراد مرتد ہو گئے تھے اور ان سے ان کے ارتداد کی وجہ سے جنگ کی گئی بلکہ ابو بکر نے ان مرتدین کے خلاف اس لئے جنگ کی کہ تا آپ ان کی اسلامی حکومت پر یلغار کو روکیں اور اس میں فتنہ پردازی سے انہیں باز رکھیں تا کہ وہ اسلامی حکومت کے امن اور سلامتی کے لئے خطرہ نہ بنیں۔آپ نے یہ قدم درج ذیل ارشاد الہی کی روشنی میں اٹھایا تھا "وَ قَاتِلُوا الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ»۔(البقرة: ۲۱۰) اسی طرح کتب تاریخ میں مذکور ثعلبہ کا قصہ بھی حد ردہ کے بطلان پر تین ثبوت ہے اور اس بات کی تردید کرتا ہے کہ ابو بکر نے مرتدین سے صرف اس بنا پر جنگ کی تھی کہ وہ زکوۃ دینے سے انکاری ہو گئے تھے۔کیونکہ تعلبہ نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا اور آپ کے عامل