اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 105 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 105

105 اس لئے اس زمانہ کا اجماع تو قتل مرتد کے عقیدہ کے خلاف تھا۔اگر قتل مرتد کے عقیدہ پر اجماع ہوتا تو کیسے ممکن تھا کہ حضرت ابو بکر مرتدین کو قتل نہ کرواتے۔ایک صحابی نے بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر یہ اعتراض نہیں کیا کہ قرآن کا حکم ہے کہ مرتد کو قتل کیا جائے اور یہ حد ہے جس کا جاری کرنا آپ پر فرض ہے آپ کو اجازت ہی نہیں کہ ان لوگوں کو قتل کے سوا کوئی اور سزا دیں۔آپ کو کس طرح یہ حق حاصل ہو گیا کہ ان کو غلام بنا لیں۔تو یہ صحابہ کا تقریری اجماع ہے۔ایک مخالف آواز کا بھی نہ اٹھنا ثابت کرتا ہے کہ اگر اجماع ہے تو اس بات کے حق میں ہے کہ مرتد کی سزا اسلام قتل قرار نہیں دیتا۔دلیل دوم سنن دار قطنی میں حضرت ابن عباس سے ایک روایت یوں مروی ہے کہ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : الْمُرْتَدَّةُ عَنِ الإِسْلَامِ تُحْبَسُ وَلَا تُقْتَلُ (سنن الدارقطني كتاب الحدود والديات حدیث نمبر ۱۲۰٫۳۱۷۳) یعنی آپ کے نزدیک مرتد ہ کو قتل نہیں کیا جائے گا۔قید کیا جائے گا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو میدان جنگ میں بھی قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔سو یہ دونوں روایات مودودی کے اس نظریہ کی مخالفت کر رہی ہیں کہ مرتد قتل ہوگی اور اس بات کی بھی کر قتل مرتد کے نظریہ پر امت کا اجماع ہے۔دلیل سوم علامہ المرغینانی ( وفات ۵۹۳ ہجری) فرماتے ہیں: وَلَنَا أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ،