اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 98
98 ہے کہ مرد عورت کا مطیع ہو گیا اور نَاقَةٌ مُقَتَلَةٌ ایسی اونٹنی کو کہتے ہیں جو مالک کے اشارے پر چلتی ہو۔آيت كريم قُتِلَ الْإِنْسَانُ مَا اَكْفَرَہ کے بارہ میں فَرَّاء نے کہا ہے کہ یہاں قتل کا مطلب ہے لعن یعنی خدا کی لعنت ہو انسان پر۔اسی طرح قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُون میں قاتل کا مطلب یہ کیا گیا ہے کہ خدا منافقین پر لعنت ڈالے۔حدیث میں ہے۔قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ مراد ہے اللہ یہود کو ہلاک کرے بعض نے اسکا معنی کیا ہے کہ ان پر لعنت ڈالے اور بعض نے یہ کیا ہے کہ ان کا دشمن ہو۔حدیث میں نمازی کو حکم ہے کہ اگر کوئی اس کے آگے سے گزرے تو قَاتِلُهُ فَإِنَّهُ لَشَيْطَان اور قاتل کے یہاں معنی یہ کئے گئے ہیں کہ اسے اپنے آگے سے ہٹا دو اس سے بھی پتہ چلا کہ قتال کا لفظ ہر بار ظاہری طور پر قتل کرنے کے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔اسی طرح کہتے ہیں : قَتَلَ اللهُ فُلانا اور مراد ہوتی ہے کہ اللہ اس کے شر سے بچائے۔چنانچہ سقیفہ بنی سعد کے موقع پر حضرت عمرؓ نے کہا : قَتَلَ اللهُ سَعُدًا کہ خدا سعد کے شر سے مسلمانوں کو بچائے۔دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا اُقْتُلُوا سَعْدًا قَتَلَهُ اللهُ اور مراد یہ تھی کہ اس کو مقتول سمجھو۔یوں سمجھو کہ گویا یہ زندہ ہی نہیں اور اس کی بات نہ مانو اسکی گواہی کو قبول نہ کرو۔اسی طرح حضرت عمرؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ جو اپنا یا کسی مسلمان کا نام