اسلام کے خلاف ہولناک سازش، ذمّہ دار کون؟ — Page 5
خدائی کے دعویدار کو حضرت مرزا صاحب لعنتی اور بد بخت یقین کرتے تھے۔مقام مصطفی می شه بود تا حضرت مرزا صاحب نے حضور رو اصلی ما یاد میقات کی باری کا نہیں آپ کے کامل غلام ہونے کا دعوی کیا اور آپ کا سارا کلام عشق محمد مصطفی متن مشمار پیام میں ڈوبا ہوا ہے اور آپ کی خاک پا پر فدا ہونے کی تمنا ظاہر کرتا ہے۔آپ فرماتے ہیں سے وہ پیشوا ہمارا جس سے سے نور سارا نام اس کا ہے محمد دلبر مرا یہی ہے اُس نور پر فدا ہوں، اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے ) در شمین ارود ) آپ کا ایمان تھا کہ حضرت محمد مصطفی صلی الہ علیہ وتم آخری صاحب شریعیت اور مطاع رسول ہیں اور انسانوں کیلئے اب آپ کی غلامی کے سوا کوئی مرتبہ باقی نہیں۔جو برابری کا دعویدار ہو وہ لعنتی ہے۔بیس مخالف علماء اگر اب بھی اس جھوٹے الزام سے باز نہیں آتے تو اللہ اُن سے بیٹھے۔اُن کا معامر ہم عالم الغیب ، قادر مطلق خدا کے سپرد کرتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب تو تمام انبیاء و معصوم عن الخطا و یقین فرماتے تھے اور انبیاء کی عزت کے قیام کیلئے آپ نے تمام عمر جہاد کیا۔آپ کا ایمان تھا کہ انبیاء عصمت انبیاء کی توھین انسان کو لعنتی بنا دیتی ہے۔آپ سب انبیاء کو پاک سمجھتے تھے مگر سب سے بڑھ کر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب پاک فرماتے ہیں ہیں میر اک دوسرے سے بہتر کلیک از خدائے برتر خیر الوری یہی ہے ( در نمین اباد ) پس ہمارے مخالف علا راس ظالمانہ الام تراشی سے باز آجائیں وہ خدا کے عذاب سے ڈریں۔جب خدا کی پکڑ آتی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت انسان کو ہلاکت سے بچا نہیں سکتی۔اہل بیت حضرت مرزا صاحب کی نظرمیں صرت مرزا صاحب انا امینی اور بی بی کی پیگیری اور اعلی روحانی مراتب کے دل وجان سے قائل تھے اور اہل بیت کی گستاخی کرنا قابل نفرت گناہ سمجھتے تھے۔آپ کا ایمان تھا کہ جان در دلم فدائے جمال محمد است خانم نثار کوچه آل محمد است برای کہ میرے دل و جان محمد رسول اللہ صلی الہ علی رستم کے جمال پر فدا ہوں اور میری خاک بھی آل محمد کے کوچے پر شار ہو نیز فرماتے ہیں وَلِي مُناسبةُ الطَّيفَةٌ بِعَليَّ والحَسَنَيْنِ وَلَا يَعْلَمُ سِتَهَا إِلا رَبُّ المَشْرِقَيْنِ وَالمَعْرِبَيْنِ وَإِلَى أَحِبُّ عَلِيًّا وَابْنَاهُ وَأَعَادِي مَنْ عَادَاهُ : (ستر الخلاف (م (۳) کہ مجھے حضرت علی اور حسنیں جن سے