اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 84 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 84

۸۴ في الثُّلُثِ، در منشور سورة النساء تحت آيت الكلالة ) حاکم نے (اپنی کتاب مستدرک میں بسلسلہ سند ) حضرت عمرؓ اور حضرت علی اور عبداللہ بن مسعود اور زیڈ (ابن حارثہ ) سے روایت کی ہے کہ فوت ہونے والا شخص اگر ورثاء ذیل چھوڑ جائے یعنی ماں اور خاوند ( یا بیوی) اور حقیقی بھائی اور مادری بھائی تو ان مادری بھائیوں کے تہائی حصہ میں حقیقی بھائی بھی شریک ہوں گے یہ فتویٰ انہوں نے اس بناء پر دیا کہ یہ سب ایک ماں کی اولاد ہیں اور باپ نے تو حقیقی بھائیوں کی قرابت کو اور بھی بڑھا دیا ہے (اس لئے وہ ورثہ سے کیوں محروم رہیں ) پس وہ مادری بھائیوں کے ساتھ ان تہائی حصہ میں شریک ہیں۔“ (بحوالہ تفسیر در منثور مصنفه علامه جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۶ ھ زیر آیت کلالہ سورۃ نساء ) اس روایت کی روشنی میں حقیقی اور اخیافی بھائی ۱/۳ حصہ میں برابر کے شریک ہوں گے۔اس لئے ہر ایک کو جائداد کا ۱/۱۲ حصہ ملے گا۔اس طرح حقیقی بھائی جن کی قوت قرابت اخیافی بھائیوں کی نسبت زیادہ ہے محروم نہیں ہوتے۔۵۔زوجہ کا حصہ خاوند کی طرح بیوی بھی اپنے خاوند کے ترکہ سے کبھی محروم نہیں ہوتی البتہ اس کا حصہ حالات کے مطابق کم یا زیادہ ہو جاتا ہے اور اس کی بھی صرف دو صورتیں ہیں۔الف۔اگر خاوند کی اولاد ہو ( خواہ کسی بھی بیوی کے بطن سے ہو ) تو موجودہ بیوی کو یا موجودہ تمام بیویوں کو ترکہ کا ۱/۸ حصہ ملتا ہے۔اگر اولاد ( کسی بیوی سے بھی) نہ ہو تو پھر انہیں ترکہ کا ۱/۴ حصہ ملتا ہے۔نوٹ: بیوی کو حصہ دیتے وقت صرف یہ دیکھنا ہوگا کہ خاوند کی اولاد ہے یا نہیں یہ ضروری نہیں کہ اولا د موجودہ بیوی سے ہی ہو وہ کسی بھی بیوی کے بطن سے ہو سکتی ہے۔خواہ وہ بیوی زندہ ہو یا نہ ہو۔اس لئے جب بھی کوئی اولاد ہو تو زوجہ کو ۱/۸ حصہ ملے گا۔اور اگر کوئی اولا د نہیں تو اس صورت میں بیوی کو یا بیویوں کو ۱/۴ حصہ ملے گا۔جس میں یہ سب برابر کی