اسلام کا وراثتی نظام — Page 34
۳۴ احکام وراثت کی تفسیری و تشریحی احادیث ا۔ترکہ پہلے اہل فرائض کے لئے پھر زیادہ قریبی رشتہ داروں کے لئے ہے عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَم قَالَ الْحِقُو الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَابَقَى فَهُوَ لَا وُلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ ( صحیح بخاری کتاب الفرائض) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ” میراث کو اہل فرائض پر تقسیم کر دو اور جو باقی رہے وہ زیادہ قریبی مرد کا حصہ ہے ( یہاں ذوی الفروض کو دینے کے بعد جو بیچ رہے وہ عصبہ کو دینے کا حکم ہے جسے اگلے باب میں بیان کیا جائے گا۔) ۲۔آیت میراث کا نزول وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَارَسُوْلَ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاتَان ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبْيع قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا وَّ إِنَّ عَمَّهُمَا اَخَذَمَا لَهُمَا وَلَمْ يَدَعُ لَهُمَا مَالاً وَلَا تُنْكِحَانِ إِلَّا لَهُمَا مَالٌ۔قَالَ يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ فَنَزَلَت ايَةُ الْمِيْرَاتِ فَبَعَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمِّهِمَا فَقَالَ اَعْطِ ابْنَتَى سَعْدِ الثُّلُثَيْن وَاعْطِ أُمَّهُمَا النُّمُنَ وَمَا بَقِيَ فَهُوَلَكَ ( ترمذی۔ابواب الفرائض باب ۳) حضرت جابر روایت کرتے ہیں کہ سعد بن ربیع کی بیوی سعد بن ربیع کی دو بیٹیوں کے ہمراہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا ! یا رسول اللہ