اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 27 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 27

ہے۔۲۷ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد کے مال میں سے ۲/۳ ان کی بچیوں کو اور ۱/۸ ان کی زوجہ محترمہ کو دلوایا اور باقی مال حضرت سعد کے بھائیوں کو ملا۔دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا دن تھا جب اس روئے زمین پر عورت کو بھی مرد کی طرح جائداد میں مستقل حصہ دار قرار دیا گیا کوئی اور مذہب یا تمدن ایسی مثال نہ پیش کر سکا۔کسی ملک یا قوم نے ترکہ میں عورت کے حق کو تسلیم نہ کیا یہ صرف اسلام ہی ہے جس نے عورتوں کو معاشرہ میں صحیح باوقار باعزت مقام دے کر انہیں ان کے حقوق عملی طور پر دلوائے۔اور ان کی حالت کو یکسر بدل دیا۔اس طرح ترکہ میں دوسرے متعلقہ رشتہ داروں کے حقوق معین کر کے اسلام نے بنی نوع انسان کو ایک ایسا وراثتی لائحہ عمل دیا جس کے ذریعہ ہر مستحق کو اس کا حق مل جاتا ہے ہر قسم کی خانہ جنگیاں ختم ہو جاتی ہیں اور کسی حقدار کو بھی بے سہارا نہیں چھوڑا جاتا۔یہ احکام وراثت ایسے مکمل ہیں کہ ہر ملک میں، ہر قوم کے لئے اور ہر دور میں قابل عمل مفید اور بابرکت ہیں۔مختصر ہونے کے ساتھ ساتھ یہ احکام اس قدر واضح اور منصفانہ ہیں کہ اس کی مثال دنیا میں اور کسی جگہ نہیں ملتی یوں معلوم ہوتا ہے کہ احکام وراثت کے دفتر کے دفتر ان چند آیات میں قلمبند کر دیئے گئے ہیں۔انہیں دیکھ کر عقل انسانی اس بات کو ماننے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ یہ احکام کسی انسانی ذہن کی کاوش کا نتیجہ نہیں ہو سکتے یقیناً یہ کسی علیم ، حکیم اور احکم الحاکمین ہستی کے نازل کردہ ہیں جس نے اس قدر اختصار کے ساتھ ایسے بلیغ و حکیمانہ احکام دیے۔جن سے تمام حقوق باحسن طریق ادا ہو جاتے ہیں۔دوسرے احسانوں کی طرح یہ بھی دنیا پر قرآن پاک کا ایک بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے بنی نوع انسان کی فلاح کے لئے دوسرے ضروری نظاموں کے ساتھ ساتھ ایک صحت مند، تمام ضرورتوں کو پورا کرنے والا اور ہر حال میں قابل عمل وراثتی نظام جاری فرمایا اور ان کے ایک بہت اہم بنیادی ضروری اور فطری تقاضے کو پورا فرمایا۔