اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 284 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 284

۲۸۴ ② دوسری دلیل حضرت زید بن ثابت کا اپنا قول ہے جو بخاری نے نقل کیا ہے۔لَا يَرِثُ وَلَدُ الْإِبِنِ مَعَ الْإِبْنِ“ یعنی بیٹے کے ساتھ ، بیٹے کا بیٹا ( یعنی پوتا ) وارث نہیں ہوتا۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر بیٹا موجود ہو تو یتیم پوتا اپنے دادا کے ترکہ سے حصہ نہیں پاتا۔اب یہ قول اس شخص کا ہے جس کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔وعلمها بالفرائض زيد بن ثابت (مسند امام احمد ) یعنی فرائض ( وراثت) کے مسائل کو جتنا زید بن ثابت جانتے ہیں اتنا اور کوئی نہیں جانتا اس لئے اس قول کی پابندی ضروری ہے لہذا اگر بیٹا موجود ہو تو یتیم پوتا اپنے دادا کی جائداد سے حصہ نہیں پائے گا۔(3 تیسری دلیل حجب و حرمان کا وہ اصول ہے جو فقہا نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں وضع کیا ہے یعنی الاقرب فالاقرب یعنی عصبات میں قریب تر بعید تر کو محروم کر دیتا ہے بیٹا زیادہ قریب ہے بہ نسبت پوتے کے اس لئے بیٹے کی موجودگی میں یتیم پوتا وارث نہیں ہو سکتا۔(4) چوتھی دلیل اُمت کے تمام فقہاء اور علماء کا اتفاق ہے صحابہ کرام کے زمانہ سے لے کر آج تک کوئی ایک فقیہ یا کوئی ایک محدث بھی ایسا نہیں ملتا جس نے اس مسئلہ سے اختلاف کیا ہو اور وہ پوتے کو دادے کی جائداد سے حصہ دلوانے کا حامی ہو۔اُمت کا یہ اتفاق اس مسئلہ کو شرعی لحاظ سے بہت مضبوط کر دیتا ہے۔یعنی تعامل اس کے حق ہے۔