اسلام کا وراثتی نظام — Page 278
۲۷۸ قَالَ بَعْضُهُمُ إِذَا انْقَطَعَتْ اَخْبَارُ الْمَفْقُودِ فِي الْحَرْبِ عَامِينِ أَوْعَامًا وَاحِداً عُدَّ هَالِكًا (الاسره فی الشراع اسلامی ) بعض کا خیال ہے کہ جنگ کے دوران مفقود الخبر شخص کے بارہ میں دو سال تک یا ایک سال تک کوئی خبر نہ آئے تو اس کو ہلاک ہونے والوں میں شمار کیا جائے۔ان تمام حوالوں سے ظاہر ہے کہ آخری فیصلہ امام وقت یا اس کے قائم کردہ عدالتی ادارہ قضا پر موقوف ہے۔بہر حال عام قاعدہ یہ ہے کہ ایسی صورتوں میں زوجہ کے نکاح ثانی کے لئے مدت بالعموم ایک سال چار ماہ دس دن سے کم نہیں ہونی چاہئے اور جائداد کی تقسیم کے لئے ۴ سال سے کم نہیں ہونی چاہئے۔نوٹ : عدالت یا قضا جب بھی مفقود الخبر کی موت کے متعلق حکم صادر کرے تو جو وارث حکم جاری ہونے کے وقت زندہ موجود ہوں وہی اس کے وارث متصور ہوں گے کیونکہ ورثاء یا وارث کا موروث کی وفات کے وقت زندہ ہونا ضروری ہے۔وہ رشتہ داری جو مفقود الخبر کی وفات کا حکم جاری ہونے سے پہلے ہی وفات پاگئے وہ وارث نہیں ہوں گے۔