اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 277 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 277

۲۷۷ مفقود الخبر یعنی لا پتی شخص کی میراث کا بیان مفقود الخمر کے لغوی معنے لا پتہ کے ہیں۔وراثتی اصطلاح میں مفقود الخبر اسے کہا جاتا ہے جس کے بارہ میں یہ علم نہ ہو سکے کہ وہ کہیں زندہ موجود ہے یا وفات پا چکا۔حنفیوں کے نزدیک مفقود الخبر کے لئے انتظار کرنے کی مدت نوے برس ہے۔یعنی جب تک اس کی عمر ۹۰ برس نہ ہو جائے اس کی موت کا حکم نہ لگایا جائے۔یعنی اس کا ترکہ تقسیم نہ کیا جائے۔یہ مدت انتظار اپنی طوالت کی وجہ سے بہت سی الجھنیں پیدا کرتی ہے خاص طور پر جب کہ مفقود الخبر کی بیوی بھی موجود ہو۔اس لئے اب علمائے احناف نے حضرت امام مالک کے مسلک کو تسلیم کر لیا ہے یعنی جس روز سے وہ شخص مفقود الخبر ہو اس روز سے چار سال کے بعدا کی زوجہ قضائی فیصلہ حاصل کر کے اور عدت گزار کر نکاح ثانی کر سکتی ہے گویا چار سال کے بعد مفقود الخبر کو وفات یافتہ قرار دیا جا سکتا ہے اور اس کا ترکہ تقسیم کیا جا سکتا ہے، لیکن فقہا نے اس بارہ میں امام وقت کی اجازت کی شرط لگائی ہے۔جیسا کہ مندرجہ ذیل حوالہ جات سے ظاہر ہے۔قَالَ بَعْضُهُمُ مَالُ الْمَقْوُدِ مَوْقُوق إِلَى اِجْتِهَادِ الْإِمَامِ وَمَوْقُوفٌ الْحُكْمُ فِى حَقِّ غَيْرِهِ حَتَّى يُوْقِفَ نَصِيبَهُ مِنْ مَالٍ مُورِثِهِ ( تنویر الحواشی شرح سراجی صفحه ۱۱۳) بعض فقہاء کے نزدیک مفقود الخبر کے مال کو ترکہ قرار دینے کا فیصلہ امام (وقت ) کے اجتہاد پر موقوف ہے اور دوسرے کے ترکہ میں اُس کے حصہ کا فیصلہ بھی ایسے ہی حکم پر موقوف ہے پس مورث کے مال میں اس کا حصہ کیا ہے اور کتنا ہے یہ بھی عدالتی فیصلہ پر موقوف ہوگا۔فَوَّضَهُ بَعْضُهُمْ إِلَى الْقَاضِي فَايَّ وَقْتٍ رَأَى الْمَصْلِحَةَ حَكَمَ بِمَوْتِهِ ( قال الشارح وهو المختار بحر الرائق صفحه ۱۶۵) بعض لوگوں نے اس معاملہ کو قاضی کے سپرد کیا ہے جب بھی وہ مناسب خیال کرے ایسے شخص کی موت کا فیصلہ کر دے۔