اسلام کا وراثتی نظام — Page 236
مثال نمبر ۴ : ۲۳۶ ایک میت نے ایک زوجہ اور چار بیٹے وارث چھوڑے۔ایک بیٹے نے کچھ مال کے عوض دوسرے ورثاء کی رضا مندی سے باقی ترکہ سے دستبرداری اختیار کر لی۔بتائیے اب باقی تر کہ زوجہ اور باقی بیٹوں میں کس نسبت سے تقسیم ہو گا ؟ زوجہ کا مقررہ حصہ = ۱/۸ لہذا ایک بیٹے کا حصہ = ہے کیونکہ چار بیٹوں کا مقررہ حصہ = باقی کا = ۱ - ۷/۸ ایک بیٹا کچھ مال کے عوض ترکہ سے دستبردار ہو گیا۔اس لئے اب ہم اسے معدوم سمجھیں تو زوجہ اور تین بیٹے رہے اور ان کے مقررہ حصوں کی نسبت 4 : ہے۔اس لئے باقی کا ترکہ ان میں ۴ : ۲۱ سے تقسیم ہو گا۔یعنی اگر اس باقی ترکہ کے ۲۵ سہام کئے جائیں تو چار زوجہ کو اور ۲۱ تین بیٹوں کو یاسے ہر بیٹے کو ملیں گے۔مثال نمبر ۵ ایک میت نے زوجہ ، والدہ ، ایک اخیافی بھائی اور ایک بھتیجا وارث چھوڑے اخیافی ائی نے ۳۰۰۰ روپے کے عوض اپنے حق سے دستبرداری اختیار کر لی دوسرے ورثاء بھی اس پر راضی ہو گئے۔اگر متوفی کا کل ترکہ ۲۷۰۰۰ روپے ہو تو ہر ایک کا حصہ بتائیے۔اخیافی بھائی کا مقررہ حصہ والدہ کا مقررہ حصہ بیوی کا مقررہ حصہ بھتیجے کا مقررہ حصہ = 1 - ( ½½ + ½ + ½ ) - 1/4 = = 1/ = = == ۳+۲+۲ - ۱ ۱۲ اخیافی بھائی روپے کے عوض تخارج اختیار کیا۔اس لئے اس کو ورثاء سے اور ۳,۰۰۰ روپے کو ترکہ سے نکال دیں باقی رقم ۲۴,۰۰۰ روپے والدہ ، بیوی اور بھتیجے کے مقررہ حصوں کے تناسب کے لحاظ سے تقسیم کریں۔یعنی ہے : : ==۴ : ۳ : ۳ سے۔اس لئے والدہ کا حصہ بیوی کا حصہ ہے ۴/۱۰ × ۲۴۰۰۰ = ٣/١٠ ۱۰ × ۲۴۰۰۰ = = ۸۶۰۰ روپے = ۲۰۰ ۷ روپے