اسلام کا وراثتی نظام — Page 214
۲۱۴ ٦/١٣ = اور بیٹی کا حصہ مثال نمبر ۲: ایک میت نے زوجہ ، بیٹی ، پوتی ، والدہ اور والد وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔پہلا طریقہ : زوجہ کا حصہ = = ۱/۸ بیٹی کا حصہ 1/4 والدہ کا حصہ 1/r= 1/4 = 1/4 = + + + + + +++ = ۲۷ = = ۴+۴+۴+۱۲+۳ ۲۴ پوتی کا حصہ والد کا حصہ حصوں کا مجموعہ نسب نما (۲۴) کو شمار کننده (۲۷) کے برابر کرنے سے یہ حصے بالترتیب ۳/۲۷، ۱۲/۲۷، ۴/۲۷، ۴/۲۷، ۱۴/۲۷ ہوں گے یعنی اگر جائداد کے ۲۷ سہام کئے جائیں تو تین زوجہ کے ۱۲ بیٹی کے ۴ پوتی کے ۴ والدہ کے اور ۴ سہام والد کے ہوں گے۔دوسرا طریقہ ورثاء کے حصوں کا تناسب ۴:۴:۴ : ۱۲ : ۳ = ۴:۴:۴:۱۲:۳ ۲۴ +:+:+:+:+ ۲۷ = ۴ + ۴ + ۴ + ۱۲ + ۳/۲۷ = ۱۲/۲۷ = ۴/۲۷ = ۴/۲۷ = لہذا تناسبی مجموعہ اس لئے ترکہ میں زوجہ کا حصہ بیٹی کا حصہ پوتی کا حصہ والدہ کا حصہ والد کا حصہ ۴/۲۷ اگر ترکہ کی مالیت ۲۷۰۰۰ روپے ہو تو زوجہ کو تین ہزار، بیٹی کو بارہ ہزار پوتی کو چار ہزار والدہ کو چار ہزار اور والد کو چار ہزار روپے ملیں گے۔مثال نمبر ۳ :