اسلام کا وراثتی نظام — Page 213
۲۱۳ کل جائداد کوا کائی تصور کر کے اس کو ذوی الفروض کے حصوں کے تناسب سے تقسیم کر دیں۔نوٹ نمبر ا عول کی صورت میں عصبات کو زیر بحث لانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔کیونکہ وہ تو صرف ذوی الفروض سے بچا ہوا ترکہ حاصل کرتے ہیں اور یہاں بچت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔نوٹ نمبر ۲:۔اگر میت کے وارثوں میں کوئی بیٹا موجود ہو تب بھی عول کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ خدائے علیم و حکیم نے فرقان مجید میں جو احکام نازل فرمائے ہیں۔ان کے تحت بیٹے یا پوتے کی موجودگی میں یا تو بہت سے ذوی الفروض مکمل طور پر گر جاتے ہیں یا پھر ان کے حصوں میں اس قدر کمی آ جاتی ہے کہ ان کے حصے دینے کے بعد کافی مال بچ جاتا ہے جسے بیٹا یا پوتا حاصل کر لیتا ہے۔جس سے اولاد کی اولیت، اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔مثال نمبر 1: ایک میت نے خاوند والدہ ، والد اور ایک بیٹی وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔پہلا طریقہ = خاوند کا حصہ 1/ = والد کا حصہ والدہ کا حصہ = ۱/۶ بیٹی کا حصہ مجموعه =+ + + + + + + = ۶+۲+۲+ = نسب نما کو شمار کنندہ کے برابر کر دیں تو پھر بالترتیب یہ حصے ہوں گے۔1/4 = ۱/۲ = ۳/۱۳ ۲/۱۳ ۲/۱۳ ، اور ۶/۱۳ یعنی اگر جائداد کے کل ۱۳ سہام کریں تو ۳ خاوند ، صرف ۲ والدہ کو، دو والد کو اور چھ سہام بیٹی کوملیں گے۔دوسرا طریقہ = ورثاء کے حصوں میں تناسب ۶:۲:۲:۳ = ۶:۲:۲:۳ = +: +: +: + - اور تناسبی مجموعہ اس لئے ترکہ میں خاوند کا حصہ والدہ کا حصہ والد کا حصہ ۱۳ - ۲ +۲ + ۲ + = ٣/١٣ = ۲/۱۳ = ٢/١٣ =