اسلام کا وراثتی نظام — Page 167
۱۶۷ کا حصہ نکال کر باقی جائداد نواسہ نواسی کے درمیان تقسیم ہوگی۔اگر صرف نواسے ہی نواسے ہیں یا نواسیاں ہی نواسیاں ہیں تو جائداد آپس میں برابر تقسیم کریں گے۔اگر نواسے نواسیاں دونوں ہیں تو پھر مرد کو دہرا اور عورت کو اکہرا حصہ ملے گا۔یہ تمام نو ا سے یا نواسیاں یا نواسے نواسیاں وارث ہوں گے خواہ یہ میت کی ایک ہی مرحوم بیٹی کی اولاد ہوں یا ایک سے زیادہ مرحوم بیٹیوں کی اولاد ہوں ورثہ میں یہ سب حق دار ہوں گے۔مثال الف۔اگر ایک میت ایک نواسہ اور ایک نواسی چھوڑے تو ۲/۳ حصہ جائداد کا نواسے کو اور ۱/۳ نواسی کو ملتا ہے۔ایک میت نے اپنی مرحومہ دختر رشیدہ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ، دختر سعیدہ کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں اور دختر مجیدہ کی ایک بیٹی وارث چھوڑے۔ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔میت کے کل ۳ نواسے اور ۴ نواسیاں وارث ہیں۔اس لئے کل جائداد کے دس سہام ہوں گے جن میں ہر نواسے کو دو سہام اور ہر نواسی کو ایک سہم ملے گا یہ طریق تقسیم بالر اس کہلاتا ہے۔اس کے برخلاف بالنسب تقسیم یہ ہے کہ تینوں دختروں کو زندہ تصور کر کے جائدادان میں برابر تقسیم کر دی جائے پھر ان کے اپنے اپنے حصے کو ان کی اپنی اولادوں میں للذكر مثل حظ الانثیین کے اصول کے تحت بانٹ دیا جائے۔درجه اول نمبر ۲: اگر نواسے نواسی میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو پھر میت کی پوتی کی اولاد میں جائداد تقسیم ہوگی۔اس میں بھی قریب تر بعید تر کو محروم کر دے گا اور اگر ایک سے زائد مرد یا عورتیں وارث ہوں تو جائداد اس طرح تقسیم ہوگی کہ مرد کو دو حصے اور عورت کو ایک حصہ ملے گا۔اگر نمبر ۲ میں سے بھی کوئی وارث موجود نہ ہو تو نمبر ۳ یعنی بیٹی کے پوتے پوتیاں وارث ہوں گے۔اگر نمبر ۳ میں سے بھی کوئی موجود نہ ہو تو نمبر ۴ کے ارکان میں سے سب سے قریبی ارکان وارث ہوں گے۔جیسا کہ پہلے اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر درمیانی مورث ایک ہی جنس کے ہیں تو