اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 166 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 166

۱۶۶ ہوتا۔درجہ سوم میں یہ اختلاف زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے جبکہ موجودہ وارث کچھ حقیقی یا علاقی اور اخیافی بہن بھائیوں کی اولاد ہوں۔ان تمام امور کو ہر درجہ کی مثالوں سے اچھی طرح واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔وما توفیقی الا بالله العلی العظیم۔درجہ اول کے ذوی الارحام کی ترتیب توریث بیٹی کی اولاد ( یعنی نواسے نواسیاں) پوتی کی اولاد (یعنی میت کے بیٹے کے نواسے نواسیاں (خواہ وہ کتنے بھی نیچے درجہ کے ہوں )۔بیٹی کے پوتے اور پوتیاں۔۴۔پوتے کی بیٹی کی اولاد بیٹی کے پڑپوتے اور پڑپوتیاں اور پوتیوں کے پوتے اور پوتیاں علی ہذا القیاس نوٹ: عملاً ترکہ تقسیم کرتے وقت صرف نمبر ۲ تک کے قواعد کی ہی ضرورت پڑتی ہے۔کیونکہ نمبر ۱ اور ۲ کے افراد میں سے عموماً متوفی کا کوئی نہ کوئی ایسا رشتہ دار مل ہی جاتا ہے جو شرعاً وارث ہو۔تقسیم کے وقت درجہ اول کے نمبر ا ) کے ورثاء ) کو اسی درجہ کے نمبر ۲ (کے ورثاء) پر ترجیح دی جائے گی۔نمبر ۲ کو نمبر ۳ پر نمبر ۳ کو نمبر ۴ پر۔یعنی اقسام بالا میں سے کسی قسم (نمبر ) کے تمام ارکان کا موجود نہ ہونے پر ہی اگلی قسم (نمبر) کے ارکان وراثت کے حقدار ہوسکیں گے۔اگر درمیانی مورث مختلف الجنس نہیں تو جائداد عورتوں اور مردوں میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ ہر مرد کو عورت سے دگنا حصہ ملے۔درجہ اول نمبر ۱ اور ۲ کی تفصیل درج ذیل ہے۔درجہ اول نمبر ا۔میت کے نواسے نواسیاں: یہ ذوی الارحام میں سب سے مقدم وارث ہیں۔ان کی موجودگی میں کوئی اور ذوی الارحام وارث نہیں ہو سکتے۔اگر صرف ایک نواسہ اور ایک نواسی ہے تو پھر کل جائداد کے وہی مالک ہوں گے۔بشرطیکہ خاوند یا کوئی بیوی موجود نہ ہو۔ورنہ خاوند یا بیوی یا بیویوں