اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 162 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 162

۱۶۲ جب کوئی بھی وارث ذوی الفروض اور عصبات میں سے موجود نہ ہو تب یہ ترکہ ذوی الا رحام میں تقسیم کیا جائے۔ذوی الارحام کو میراث دلوانے والوں کی دلیل یہ ہے کہ اگر چہ قرآن کریم میں جہاں وراثت کا ذکر ہے وہاں ذوی الارحام کا ذکر نہیں۔لیکن سورۃ انفال کی آخری آیت کے آخری حصہ میں ان کا ذکر موجود ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَبِ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ بعض رحمی رشتہ دار بعض کی نسبت اللہ کی کتاب کی رو سے زیادہ قریبی ہوتے ہیں اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔( تفسیر صغیر صفحه ۲۳۰) اس جگہ اولوالارحام سے ذوی الارحام ہی مراد ہیں کیونکہ ذوی الفروض اور عصبات کا ذکر آیات میراث (سورۃ نساء) میں آچکا ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف رہنمائی فرمائی ہے کہ ذوی الارحام بھی درجہ اور قوت قرابت مختلف ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں۔پھر اس امر کی تائید سنت رسول اور احادیث نبوی سے بھی ہوتی ہے۔چنانچہ حضرت سعید بن منصورہ سے مروی ہے کہ ثابت بن وحداح رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب فوت ہوئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیس بن عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت فرمایا کہ اس کی نسبت تم جانتے ہو؟ قیس بن عاصم نے کہا کہ یہ ہم میں غیر تھا، ہم صرف اس کے بھانجے کو پہچانتے ہیں۔وہ ابولیا بہ بن منذر ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ( معنی ابن قدامه جلد ۷ صفحه ۵۸ ) میراث اس کے بھانجے کو دے دی۔اسی طرح سے یہ حدیث کہ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَّا وَارِثَ لَهُ (مشکوۃ باب الفرائض) یعنی جس کا اور کوئی بھی وارث نہ ہو تو پھر اس کا وارث اس کا ماموں ہوتا ہے۔ثابت کرتی ہے کہ اگر ذوی الفروض اور عصبات میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو پھر میت کے ذوی الارحام اس کے ترکہ کے حق دار ہوتے ہیں۔