اسلام کا وراثتی نظام — Page 161
171 ذوی الارحام کا بیان ذوی الارحام ارحام رحم کی جمع ہے وراثتی اصطلاح میں ذوی الارحام ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جن سے رشتہ داری بذریعہ رحم ہو مگر ان کا شمار ذوی الفروض اور عصبات میں نہ ہو۔مثلاً نواسہ نواسی، بھانجا، بھانجی، نانا، پھوپھی اور پھر ان کی اولادیں وغیرہ۔ذوی الارحام کے میراث پانے کے بارہ میں صحابہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم ) اور ائمہ کرام میں اختلاف پایا جاتا ہے۔اکثر صحابہ کرام، تابعین اور ائمہ احناف اس بات کے قائل ہیں کہ ذوی الارحام حالات کے مطابق ترکہ کے مطلقاً وارث ہو سکتے ہیں خواہ بیت المال کا انتظام موجود ہو یا نہ ہو۔چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت علی، عبداللہ بن مسعودؓ ، معاذ بن جبل ، ابوالد روا ، ابو عبیدہ بن الجراح اس امر کے حق میں ہیں کہ جب ذوی الفروض اور عصبات میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو پھر ترکہ ذوی الارحام میں تقسیم ہوتا ہے اور یہی لوگ مطلقاً ترکہ کے وارث ہوتے ہیں۔یہی رائے حضرت عمر بن عبد العزیز ، قاضی حسن بصریؒ ، حضرت ابو حنیفہ اور ان کے دو لائق اور قابل شاگردان رشید امام محمد اور حضرت امام ابو یوسف کی ہے۔بعض صحابہ کی رائے یہ ہے کہ اگر ذوی الفروض اور عصبات میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو میت کا ترکہ تمام کا تمام بیت المال میں داخل کر دیا جائے کیونکہ ذوی الارحام کسی طور پر بھی میراث کے حقدار نہیں۔اس رائے کے حق میں حضرت زید بن ثابت اور ائمہ کرام میں سے حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک ہیں۔ان کا استدلال یہ ہے کہ اگر ذوی الارحام میراث میں حصہ پانے کے حقدار ہوتے تو ان کا ذکر بھی سورہ نساء کی آیت میراث میں کہیں نہ کہیں ضرور ہوتا۔نیز حدیث اَنَا وَارِتُ مَنْ لا وَارِتْ لَهُ ظاہر کرتی ہے کہ