اسلام کا وراثتی نظام — Page 142
۱۴۲ اور عصبات میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو۔لہذا پھوپھی محروم رہتی ہے۔جماعت احمدیہ کے مسلک کی رو سے میت کی پھوپھیاں میت کے چا کی موجودگی میں عصبہ باالغیر بن جاتی ہیں۔لہذا وارث قرار پائیں گی۔اس لئے بقیہ تر کہ ان میں ۲ : ۱ سے تقسیم ہوگا۔چاؤں کی وجہ سے ان کی بیویاں عصبہ نہیں بنتیں۔یعنی میت کی بچی کو میراث نہیں پہنچتی۔کیونکہ میت سے اس کا کوئی تعلق نبی نہیں ہے۔اگر حقیقی چا موجود ہو تو میت کے درجہ چہارم کے باقی عصبات کو حصہ نہیں ملتا۔عصبه درجه چهارم نمبر ۲ علاقی چا یعنی باپ کا علاتی بھائی : جب حقیقی چا موجود نہ ہو تو پھر باقی ماندہ تر کہ علاقی چا کو ملتا ہے اس کا حال حقیقی چچا کی مانند ہے۔اور اس کے سامنے حقیقی و علاتی چچا کے بیٹے محروم رہتے ہیں۔عصبہ درجہ چہارم نمبر ۳۔حقیقی چا کا بیٹا: جب مندرجہ بالا عصبات میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو پھر ذوی الفروض سے بچے ہوئے مال کا وارث حقیقی چا کا بیٹا ہوگا۔اگر ایک ہی حقیقی چا کے ایک سے زائد بیٹے ہوں یا چند حقیقی چچاؤں کے مختلف تعداد میں بیٹے موجود ہوں تو وہ سب باقی ماندہ ترکہ میں بطور عصبہ برابر کے شریک ہوں گے کیونکہ یہ سب ایک ہی درجہ کے اور ایک ہی جیسی قوت قرابت رکھنے والے عصبات ہیں ان کی بہنیں (یعنی حقیقی چا یا چچاؤں کی بیٹیاں) ان کی وجہ سے عصبہ نہیں یتیں۔کیونکہ ان کا شمار ذوی الارحام میں ہے (جس کا بیان آئندہ باب میں ہوگا ) حقیقی چچا کے بیٹے کے سامنے علاتی چچا کے بیٹے محروم ہوں گے۔عصبہ درجہ چہارم نمبر ۴ علاقی چا کا بیٹا : اس کا حق بالکل حقیقی چچا کے بیٹے کی مانند ہے۔یہ حقیقی چچا کے بیٹے کے سامنے محروم ہے اور اس کے سامنے حقیقی اور علاقتی چچا کے پوتے محروم ہوتے ہیں۔عصبہ درجہ چہارم نمبر ۵ حقیقی چچا کا پوتا: جب مندرجہ بالا عصبات میں سے کوئی بھی عصبہ موجود نہ ہو تب درجہ چہارم کا یہ