اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 141 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 141

۱۴۱ موجود ہوں کسی قسم کے بھائی کے پڑ پوتوں کو کچھ نہیں ملتا۔اس کے بعد ترتیب کے لحاظ سے حقیقی بھائی کے پڑپوتے یعنی بھیجے کے پوتے کا نمبر آتا ہے عملی لحاظ سے اس کی بہت ہی کم ضرورت پیش آتی ہے۔اس لئے درجہ سوم کے عصبات یہیں تک بیان کئے گئے ہیں۔لیکن بالفرض اگر ضرورت پڑ جائے تو یہ یاد رکھیں کہ بھائی کے پڑپوتے کے حقوق بالکل بھائی کے پوتے کے مانند ہیں۔صرف اتنا فرق ہے کہ یہ (پڑپوتے ) علاتی بھائی کے پوتے کے سامنے محروم ہیں۔جب کہ حقیقی بھائی کا پوتا علاقی بھائی کے پوتے کے سامنے محروم نہیں ہوتا اور جب تک یہ حقیقی بھائی کا پڑپوتا ) موجود ہو۔اس وقت تک علاقی بھائی کے پڑپوتے کو کچھ نہیں ملتا۔اگر حقیقی بھائی کا پڑپوتا بھی موجود نہ ہو تو پھر علاقی بھائی کے پڑپوتے کو میراث ملتی ہے۔مانند علاتی بھائی کے پوتے کے۔درجہ چہارم کے عصبات چچا، چچا کا بیٹا ، چا کا پوتا ، چچا کا پڑپوتا ، باپ کا چچا، اور اس کے بیٹے وغیرہ ، دادا کا چاو 0 اگر درجه اول ، دوم اور سوم کے عصبات میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو پھر حسب ترتیب درجہ چہارم کے عصبات ذوی الفروض سے بچا ہوا مال حاصل کرتے ہیں۔ان میں بھی اگر چند عصبات ایسے ہوں جو میت سے ایک ہی جیسی قوت قرابت رکھتے ہوں تو باقی مانده تر که مساوی طور پر ان میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔عصبہ درجہ چہارم نمبر ا حقیقی چا: درجہ چہارم کا سب سے زیادہ قریبی عصبہ حقیقی چچا یعنی والد کا بھائی ہے (خواہ وہ والد سے چھوٹا ہو یا بڑا ) یہ میراث سے بطور عصبہ اسی وقت حصہ پاتا ہے۔جب پہلے تینوں درجوں کے عصبات میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو۔اگر بچے دو یا دو سے زائد ہوں تو پھر باقی ماندہ ترکہ کے مساوی حقدار ہوں گے۔اگر ان کی بہنیں یعنی ( میت کی پھوپھیاں بھی میت کے چچا کے ساتھ موجود ہوں تو وہ عصبہ قرار نہیں پاتیں۔حنفی مسلک کی رو سے پھوپھیاں ذوی الارحام میں شامل ہیں اور ذوی الارحام کو اس وقت حصہ ملتا ہے جب ذوی الفروض