اسلام کا وراثتی نظام — Page 134
۱۳۴ پوتے کے اور ۳ سہام پوتی کے ہوں گے۔مثال نمبر ۶ : ایک میت نے دولڑکیاں اور ایک پوتی وارث چھوڑیں ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔دولڑکیوں کا حصہ ایک لڑکی کا حصہ باقی پوتی محروم = ۲/۳ ۱۳ = = #= =-۱ نوٹ : چونکہ کوئی عصبہ موجود نہیں اس لئے باقی ۱/۳ بھی بطریق رو میت کی لڑکیوں کومل جائے گا۔پوتی بہر حال محروم ہو گی۔لہذا ہرلڑکی کا حصہ = + + + x + = + + + =۱- ۳۱۲ = = = + عصبہ درجہ اول نمبر ۳ پڑپوتا : جب میت کا بیٹا، پوتا کوئی بھی موجود نہ ہو تو ذوی الفروض کو اُن کے حصے دینے کے بعد جو مال بچ جائے وہ پڑ پوتا یا پڑ پوتے حاصل کرتے ہیں اگر پڑ پوتیاں بھی موجود ہوں تو وہ پڑپوتے کے ساتھ مل کر عصبہ بن جاتی ہیں۔پھر ان کے درمیان للذكر مثل حظ الانثيين کے اصول کے تحت تقسیم ہوگی۔یعنی مرد کو دگنا اور عورت کو اکہرا حصہ ملے گا۔اگر میت کی ایسی پوتی یا پوتیاں موجود ہوں جو ذوی الفروض میں شامل نہ ہو سکتی ہوں اور پڑپوتا بھی موجود ہو تو یہ ( پوتی پوتیاں ) پڑپوتے کے ساتھ مل کر عصبہ بن جاتی ہیں۔اسی طرح اگر میت کی ایسی ہی پوتیاں بھی ہوں اور پڑپوتیاں بھی ہوں تو یہ سب پڑپوتے کے ساتھ مل کر عصبہ بن جاتی ہیں اور باقی ماندہ مال ان کے درمیان ۲ : ۱ سے تقسیم کیا جاتا ہے یعنی مرد کو دگنا اور عورت کو اکہرا حصہ دیا جاتا ہے۔پڑپوتے کی موجودگی میں اس سے نیچے درجہ والے مرد بھی یعنی سکڑ پوتے وغیرہ محروم ہوتے ہیں اور یہ (پڑپوتا ) پوتے کے سامنے اور پوتا بیٹے کے سامنے محروم ہوتا ہے۔مثال نمبر ے :