اسلام کا وراثتی نظام — Page 132
ہر بیٹے کے 1000 روپے ہر بیٹی کے اور ۲۴۰۰ روپے ہر پوتے کے حصہ میں آئیں گے۔نوٹ: اگر میت نے پوتوں کے حق میں وصیت نہ کی ہوتی تو وہ جائداد سے محروم رہتے پھر باقی ماندہ ترکہ صرف بیٹے بیٹیوں میں ہی ۲ اور ا کی نسبت سے تقسیم ہو جاتا ہے۔عصبہ درجہ اول نمبر ۲ پوتا: جب میت کا کوئی بیٹا موجود نہ ہو یا شرعی لحاظ سے بیٹا محروم الارث ہو تو پھر ذوی الفروض کو ان کے مقررہ حصے دینے کے بعد باقی ماندہ تر کہ پوتے یا پوتوں کو مل جاتا ہے۔اگر پوتوں کے ساتھ پوتیاں بھی موجود ہوں تو وہ عصبہ بالغیر بن جاتی ہیں۔اور بچا ہوا ترکہ ان میں للذكر مثل حظ الانثیین کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے اگر کوئی بھی ذوی الفروض موجود نہ ہو تو تمام تر کہ پوتے پوتیوں میں ۲ : ا سے تقسیم کر دیا جاتا ہے۔اگر پوتوں یا پوتے کے ساتھ میت کی بیٹی یا بیٹیاں بھی موجود ہوں تو یہ ( بیٹی بیٹیاں) ذوی الفروض ہوں گی۔عصبہ نہیں اگر ایک ہو تو نصف ترکہ کی وارث ہوتی ہے اور دو یا دو۔زائد ہوں تو ۲/۳ حصہ کی وارث ہوتی ہیں۔جس طرح بیٹے کے سامنے تمام پوتے پوتیاں محروم رہ جاتے ہیں اسی طرح پوتے کے سامنے اس سے نیچے کے درجہ کے پڑپوتے پڑپوتیاں وغیرہ محروم ہوں گے۔مثال نمبر ۴ : نظام دین کا ایک لڑکا روشن دین ہے اور ایک لڑکی زہرہ بانو ہے روشن دین کے دو لڑکے کرم دین اور علم دین اور ایک لڑکی کلثوم ہے۔نظام دین کی بیوی بھی بقید حیات ہے۔روشن دین نے اپنے والد نظام دین کو کسی جھگڑے کی بنا پر قتل کر دیا۔اگر نظام دین کی قابل تقسیم جائداد ۴۰۰۰ روپے ہو تو ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔حل بیٹا چونکہ باپ کا قاتل ہے اس لئے وہ محروم الارث ہو گا۔لہذا میت کے پوتے پوتی بطور عصبہ جائداد سے حصہ لے لیں گے اور بیوی اور لڑکی بطور ذوی الفروض کے حصہ لیں گے۔بیوی کا حصہ = ۱/۸ لڑکی کا حصہ 1/5 = =