اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 78

کام ہونا چاہئے کہ ہر ایک کیلئے کپڑا مہیا کرے۔آئندہ تم میں سے کوئی شخص پیاسا نہیں رہنا چاہئے بلکہ یہ سوسائٹی کا کام ہونا چاہئے کہ وہ تالابوں اور کنوؤں وغیرہ کا انتظام کرے۔آئندہ تم میں سے کوئی شخص بغیر مکان کے نہیں رہنا چاہئے بلکہ یہ سوسائٹی کا کام ہونا چاہئے کہ وہ ہر ایک کے لئے مکان مہیا کرے۔یہ وہ پہلی وحی ہے جو دنیا میں نازل کی گئی اور یہ وہ پہلا تمدن ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ دنیا میں قائم کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے دنیا پر اس حقیقت کو ظاہر فرمایا کہ خدا سب کا خدا ہے وہ امیروں کا بھی خدا ہے، وہ غریبوں کا بھی خدا ہے۔کمزوروں کا بھی خدا ہے اور طاقتوروں کا بھی خدا ہے۔وہ نہیں چاہتا کہ دنیا کا ایک طبقہ تو خوشحالی میں اپنی زندگی بسر کرے اور دوسرا روٹی اور کپڑے کیلئے تر ستار ہے۔یہی وہ نظام تھا جو اسلام نے اپنے زمانہ میں دوبارہ قائم کیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ نظام جلدی مٹ گیا مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں جتنے بڑے کام ہیں اُن میں بھی یہی قانون پایا جاتا ہے کہ وہ کئی لہروں سے اپنی بلندی کو پہنچتے ہیں۔ایک دفعہ دنیا میں وہ قائم ہو جاتے ہیں تو کچھ عرصہ کے بعد پرانے رسم و رواج کی وجہ سے مٹ جاتے ہیں مگر دماغوں میں ان کی یاد قائم رہ جاتی ہے اور ایک اچھا بیج دنیا میں بویا جاتا ہے اور ہر شریف اور منصف مزاج انسان تسلیم کرتا ہے کہ وہ چیز اچھی تھی مجھے دوبارہ اس چیز کو دنیا میں واپس لانا چاہئے۔پس گو یہ نظام ایک دفعہ مٹ گیا مگر اب اُسی نظام کو دوبارہ احمدیت دنیا میں قائم کرنا چاہتی ہے۔وہ ایک طرف حد سے زیادہ دولت کے اجتماع کو روکے گی دوسری طرف غرباء کی ترقی کے سامان کرے گی اور تیسری طرف ہر شخص کے لئے کھانے پینے کپڑے اور مکان کا انتظام کرے گی۔خلاصہ یہ کہ مبنی ہے :۔78