اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 77

ہے کہ اس انتظام کی ابتداء حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے نہیں ہوئی بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے ہوئی ہے۔چنانچہ پہلی وحی جو حضرت آدم علیہ السلام پر نازل ہوئی اُس میں یہی حکم ہے کہ ہم تمہیں ایک جنت میں رکھتے ہیں۔جس کے متعلق ہمارا یہ فیصلہ ہے که إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيْهَا وَلَا تَعْرُى۔وَأَنَّكَ لَا تَطْمَؤُا فِيهَا وَلَا تَضْحَى يعنى اے آدم ! ہم نے تمہارے جنت میں رکھے جانے کا فیصلہ کر دیا ہے تم اُس میں بھو کے نہیں رہو گے تم اُس میں ننگے نہیں رہو گے۔تم اُس میں پیاسے نہیں رہو گے اور تم اُس میں رہنے کی وجہ سے دھوپ میں نہیں پھرو گے۔لوگ اس آیت سے غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد اُخروی جنت ہے اور آیت کا یہ مطلب ہے کہ جب انسان جنت میں جائے گا تو وہاں اس کا یہ حال ہو گا۔حالانکہ قرآن کریم سے صاف ظاہر ہے کہ آدم اسی دنیا میں پیدا ہوئے تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً میں دنیا میں اپنا خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں اور دنیا میں جو شخص پیدا ہوتا ہے وہ بھوکا بھی ہوسکتا ہے، وہ پیاسا بھی ہو سکتا ہے، وہ نگا بھی ہو سکتا ہے، وہ دھوپ میں بھی پھر سکتا ہے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ دنیا میں تو پیدا ہو اور بھوک اور پیاس اور لباس اور مکان کی ضرورت اُسے نہ ہو اور جب کہ یہ آیت اسی دنیا کے متعلق ہے تو لا زما ہمیں اس کے کوئی اور معنی کرنے پڑیں گے اور وہ معنی یہی ہیں کہ ہم نے اپنا پہلا قانون جو دنیا میں نازل کیا اُس میں ہم نے آدم سے یہ کہہ دیا تھا کہ ہم ایک ایسا قانون تمہیں دیتے ہیں کہ تجھ کو اور تیری اُمت کو جنت میں داخل کر دے گا اور وہ قانون یہ ہے کہ ہر ایک کے کھانے پینے ، لباس اور مکان کا انتظام کیا جائے۔آئندہ تم میں سے کوئی شخص بھوکا نہیں رہنا چاہئے بلکہ یہ سوسائٹی کا کام ہونا چاہئے کہ ہر ایک کے لئے غذا مہیا کرے۔آئندہ تم میں سے کوئی شخص نگا نہیں رہنا چاہئے بلکہ یہ سوسائٹی کا 77