اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 65

۲۵ مدینہ کے تاجر فروخت کر رہے تھے۔جب آپ سے اس حکم کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے جواب دیا کہ اگر اس طرح فروخت کرنے کی اِسے اجازت دی گئی تو مدینہ کے تاجروں کو جو مناسب قیمت پر مال فروخت کر رہے ہیں نقصان پہنچے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض صحابہ نے حضرت عمرؓ کے اس فعل کے خلاف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول پیش کیا کہ منڈی کے بھاؤ میں دخل نہیں دینا چاہتے ہے مگر اُن کا یہ اعتراض درست نہ تھا کیونکہ منڈی کے بھاؤ میں دخل دینے کے یہ معنی ہیں کہ پیداوار اور مانگ ( SUPPLY AND DEMAND) کے اصول میں دخل دیا جائے اور ایسا کرنا بے شک نقصان دہ ہے اور اس سے حکومت کو بچنا چاہئے۔ورنہ عوام کو کوئی فائدہ نہ پہنچے گا اور تا جر تباہ ہو جائیں گے۔ہم نے قریب زمانہ میں ہی اس کا تجربہ کیا ہے۔جب حکومت نے جنگ کی وجہ سے گندم کی فروخت کی ایک ہی قیمت مقرر کر دی تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اصلی تجارت بالکل رُک گئی کیونکہ کوئی عقلمند یہ امید نہیں کر سکتا کہ تاجر اسی قیمت پر خرید کر اسی قیمت پر فروخت کر سکے گا۔نتیجہ یہ ہوا کہ گندم کی باقاعدہ تجارت بالکل بند ہوگئی اور مقررہ قیمت چھ روپے کی جگہ سولہ روپیہ فی من تک گندم کی قیمت پہنچ گئی۔لوگ گورنمنٹ کو خوش کرنے کیلئے اپنے بیوی بچوں کو فاقوں سے نہیں مار سکتے تھے۔وہ ہر قیمت پر گندم خرید تے تھے اور چونکہ گندم پر زندگی کا انحصار ہے وہ ان تاجروں کی رپورٹ کرنے کے لئے بھی تیار نہ تھے جو بلیک مارکیٹ ریٹس پر اُن کو گندم دیتے تھے۔میں نے اس کے خلاف کئی ماہ پہلے گورنمنٹ کو توجہ دلائی تھی کہ اُن کے اس قانون کا خطرناک نتیجہ نکلے گا مگر حکومت نے اس پر کان نہ دھرے اور آخر سخت ہنگامہ اور شور کے بعد معقول طریق اختیار کیا۔پہلے قانون کی وجہ زمینداروں کی خدمت بتائی گئی تھی مگر نتیجہ اُلٹ نکلا۔زمیندار ٹٹ گئے اور تاجر کئی گنے زیادہ قیمت حاصل کر گئے۔۔۔۔65