اسلام کا اقتصادی نظام — Page 64
تیرہ سو سال پہلے یہ حکم دیا تھا کہ احتکار منع ہے اور احتکار کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ کسی چیز کو اس لئے روک لیا جائے کہ جب اس کی قیمت بڑھ جائیگی تب اُسے فروخت کیا جائے گا۔اگر کسی شخص کے متعلق یہ ثابت ہو جائے کہ وہ احتکار کر رہا ہے اور اسلامی حکومت قائم ہو تو وہ اُسے مجبور کرے گی کہ وہ اپنا مال فروخت کر دے اور اگر وہ خود فروخت کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو گورنمنٹ اُس کے سٹور پر قبضہ کر کے مناسب قیمت پر اُسے فروخت کر دے گی۔بہر حال کوئی شخص اس بات کا مجاز نہیں کہ وہ مال کو روک رکھے اس خیال سے کہ جب مہنگا ہو گا تب میں اسے فروخت کروں گا۔(اس میں کوئی شک نہیں کہ احتکار کے معنی غلہ کو روکنے کے ہیں لیکن تفقہ کے ماتحت جو اسلام کا ایک جز وضروری ہے اس حکم کو عام کیا جائے گا اور کسی شے کو جو عوام کے کام آنے والی ہے اس لئے روک رکھنا کہ قیمت بڑھ جائے گی تو فروخت کریں اسلامی تعلیم کے رو سے ناجائز قرار دیا جائے گا۔) اسلام میں مال کی قیمت گرانے کی ممانعت اس کے علاوہ اسلام نے قیمت کو نا جائز حد تک گرانے سے بھی منع کیا ہے اور جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے قیمت کا گرانا بھی ناجائز مال کمانے کا ذریعہ ہوتا ہے کیونکہ طاقتور تاجر اس ذریعہ سے کمزور تاجروں کو تھوڑی قیمت پر مال فروخت کرنے پر مجبور کر دیتا ہے اور ان کا دیوالہ نکلوانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔حضرت عمر کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے کہ آپ بازار کا دورہ کر رہے تھے کہ ایک باہر سے آئے ہوئے شخص کو دیکھا کہ وہ خشک انگور نہایت ارزاں قیمت پر فروخت کر رہا تھا جس قیمت پر مدینہ کے تاجر فروخت نہیں کر سکتے تھے۔آپ نے اُسے حکم دیا کہ یا تو اپنا مال منڈی سے اُٹھا کر لے جائے یا پھر اُسی قیمت پر فروخت کرے جس مناسب قیمت پر 64