اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 48

اسلام کا اقتصادی اسلام میں دولت کے غلط استعمال کی ممانعت اب میں اس بارہ میں اسلامی احکام ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہوں کہ اسلام نے کس طرح دولت کے غلط خرچ کو روکا ہے۔اول بچے مسلمان کی نسبت قرآن کریم فرماتا ہے عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ، یعنی مسلمان وہی ہیں جو لغو کاموں سے بچیں۔یعنی ایسے کاموں سے جن کا کوئی عقلی فائدہ نظر نہ آتا ہو۔مثال کے طور پر شطرنج ہے، تاش ہے یا اور اسی قسم کی کئی کھیلیں ہیں جن سے وقت ضائع ہوتا ہے۔اسلام ہر مومن کو یہ ہدایت دیتا ہے کہ وہ اس قسم کے لغو کاموں سے بچے اور شطر نج یا تاش یا اس قسم کی دوسری کھیلوں میں حصہ لے کر اپنے وقت کو ضائع نہ کرے یا مثلاً مجالس میں بیٹھ کر گپیں ہانکنا ہے یہ بھی لغو ہے۔یا مثلاً بے کار زندگی بسر کرنا ہے یہ بھی لغو ہے۔بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ وہ سارا دن بے کار بیٹھے دوستوں کی مجلس میں گئیں ہانکتے رہتے ہیں اور اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے کہ وہ اپنے اوقات کا کس بے دردی کے ساتھ خون کر رہے ہیں۔ایک شخص کا باپ مرجاتا ہے اور وہ اپنے پیچھے بہت بڑی جائداد چھوڑ جاتا ہے۔اب لڑکے کا کام یہی رہ جاتا ہے کہ وہ سارا دن اپنے دوستوں کی مجلس میں بیٹھا رہتا ہے۔ایک آتا ہے اور کہتا ہے نواب صاحب! آپ ایسے ہیں یا لالہ صاحب! آپ ایسے ہیں۔یا پنڈت صاحب! آپ ایسے ہیں یا شاہ صاحب آپ ایسے ہیں۔پھر دوسرا تعریف شروع کر دیتا ہے۔وہ خاموش ہوتا ہے تو تیسرا اُس کی تعریف شروع کر دیتا ہے۔اس طرح سارا دن یہی شغل جاری رہتا ہے کہ دوست آتے ہیں، گپیں ہانکتے ہیں اور اُس کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں یا اُسے بدراہ پر چلانے کے لئے عورتوں یا جوئے یا شراب یا اسراف کے دوسرے طریقوں کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں۔اس پر وہ بھی اُن کی خوب 48