اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 26

اُسے چاہئے تھا کہ اپنے روپیہ کو بجائے ضائع کرنے کے يَّتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ قرابت والے یتیم کو کھانا کھلاتا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنی قرابت والے یتیم کو وہ کھانا کھلاتا کیونکہ اپنے قرابت دار یتیم کو تو بہت سے بخیل بھی کھانا کھلا دیا کرتے ہیں۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ یتیم دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ یتیم ہوتا ہے جس کا کوئی رشتہ دار موجود نہیں ہوتا اُسے دیکھ کر بعض دفعہ سنگدل سے سنگدل انسان کے دل میں رحم کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ اُسے کھانا کھلا دیتا ہے مگر ایک یتیم ایسا ہوتا ہے جس کے بھائی موجود ہوتے ہیں، جس کی بہنیں موجود ہوتی ہیں، جس کے چچا اور دوسرے رشتہ دار موجود ہوتے ہیں لوگ ایسے یتیموں کی طرف کم توجہ کرتے ہیں اس لئے فرماتا ہے اگر کوئی ایسا یتیم ہو جس کے اپنے رشتہ دار موجود ہوں تب بھی اُس کے دل میں اتنا درد ہونا چاہئے تھا کہ وہ اس یتیم کو دیکھ کر سمجھتا کہ یہ یتیم میرا ہے اُن کا نہیں۔باوجود اس کے کہ اس کے اپنے رشتہ دار موجود ہوتے اس کے دل میں یتیم کی اپنی محبت ہوتی کہ وہ سمجھتا کہ میں ہی اس کا نگران اور پرسانِ حال ہوں وہ اس کے نگران نہیں ہیں۔أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ یا اُس نے کیوں ایسے مسکین کو کھانا نہ کھلایا جوذَا مَتْرَبَةٍ تھا یعنی اپنی کمزوری اور ضعف کی وجہ سے پروٹسٹ اور احتجاج بھی نہیں کر سکتا تھا، کسی کے گھر پر دستک بھی نہیں دے سکتا تھا، بلکہ ایسا تھا جیسے مٹی پر گری پڑی کوئی چیز ہو۔دنیا میں بعض ایسے مساکین ہوتے ہیں جولوگوں کے دروازوں پر پہنچ کر اپنی غربت اور مسکنت کا حال بیان کرتے اور اُن سے امداد کے طالب ہوتے ہیں۔بعض ایسے ہوتے ہیں جو دروازوں پر پہنچ کر خوب شور مچاتے اور آخر گھر والوں سے کچھ نہ کچھ لے کر اگلے دروازہ پر جاتے ہیں اور بعض ایسے مسکین ہوتے ہیں جن کو اگر کچھ دیا نہ جائے تو وہ دروازے سے ہلتے ہی نہیں۔ایسے مساکین کو خر گدا کہا جاتا ہے۔پھر کئی ایسے مسکین بھی 26