اسلام کا اقتصادی نظام — Page 149
بڑھتا چلا جائے گا۔یہاں تک کہ تو یروشلم پر حکومت کرنا چاہے گا جس کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں تب میر ا غضب تجھ پر بھڑ کے گا میں آگ اور گندھک کا مینہ تجھ پر برساؤں گا اور میں تجھے بنسیاں مار مار کر تیرے منہ اور جبڑوں کو چیر دونگا اور تجھے اس طرح تباہ و برباد کروں گا تیری لاشوں کے انبار جنگلوں میں لگ جائیں گے اور لوگ انہیں مہینوں تک زمین میں دفن کرتے رہیں گئے۔وہ لوگ جو پیشگوئیوں کو نہیں مانتے میں اُن سے کہتا ہوں کہ اگر دنیا کا کوئی خدا نہیں ہے اور اگر وہ اپنے انبیاء کو غیب کی خبروں سے اطلاع نہیں دیا کرتا تو آج سے اڑ ہائی ہزار سال پہلے حز قیل نبی کو یہ کس نے بتادیا تھا کہ ایک زمانہ میں روس دنیا کی زبر دست طاقت بن جائے گا اور وہ دنیا کا سونا اور چاندی لوٹنے کے لئے غیر ممالک پر حملہ کرے گا اور بادل کی طرح اُن پر چھا جائے گا مگر آخر خدا کا غضب اُس پر بھر کے گا اور وہ آسمانی عذاب کا نشانہ بن کر تباہ و برباد ہو جائے گا۔اس نکتہ پر غور کرنے کے بعد انسان سوائے اس کے اور کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتا کہ اس قسم کی قبل از وقت خبریں دینا خدا کا ہی کام ہے اور اگر دنیا کا ایک خدا ہے اور اُس خدا نے حز قیل نبی کو یہ خبر دی ہے جو آج تک بائبل میں لکھی ہوئی موجود ہے تو پھر اس خبر کے جو آج سے اڑہائی ہزار سال پہلے دی گئی سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں ہیں کہ خدا اس اقتصادی نظام کو دنیا میں رہنے دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔روس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی ایک نئی پیشگوئی بھی سُن لو۔اس زمانہ میں بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو زار روس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ اُس پر ایک نہایت ہی شدید عذاب آنے والا ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔(149)