اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 3
سے کوئی ایک بھی نا پسند کرے تو نکاح نہیں ہو سکتا۔دوم :- عورت کی طرف سے اس کے ولی یعنی قریبی رشتہ دار مثلاً باپ یا بھائی کی منظوری بھی ضروری ہے۔کیونکہ شریعت نے عورت کے لئے ایک ولی کا ہونا ضروری قرار دیا ہے اس لئے عورت کو بطور خود کسی سے نکاح کرنے کا حکم نہیں جب تک کہ اس کا ولی نکاح کی منظوری نہ دے۔سوم مہر مقرر ہو۔بغیر مہر کے نکاح نہیں ہوسکتا۔شریعت نے مہر کی کوئی حد مقرر نہیں کی۔مرد جس قدر اپنی حیثیت کے موافق دے سکتا ہو۔اور ہا ہم فریقین کی رضامندی سے طے ہو۔اُسی قدر مہر مقر رہونا چاہئے۔کیونکہ اگر کوئی شخص میر تو زیادہ مقرر کر لیتا ہے۔مگر اس کو ادا نہیں کرتا تو وہ گنہ گار ہے۔چہارم :- نکاح کا اعلان ہونا چاہیئے۔اعلان جتنے زیادہ لوگوں میں کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے کیونکہ خفیہ نکاح کوئی نکاح نہیں۔نکاح کے اعلان کا یہ طریق ہے کہ کسی مجلس میں جہاں چند لوگ ( کم از کم دو مہر اس مال کو کہتے ہیں جو عورت کو بطور جائداد نکاح کے وقت خاوند کی طرف سے دیا جاتا ہے یا دیا جانے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔[3]