اسلام کی کتب (پانچویں کتاب)

by Other Authors

Page 70 of 103

اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 70

آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوائے غزوہ تبوک کے باقی تمام غزوات ( جنگوں) میں شامل ہوئے اس موقعہ پر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی آپ کو فرمایا تھا کہ تم مدینہ میں رہو۔چونکہ آپ بہادر تھے اس لئے آپ نے عرض کیا کہ آپ مجھے عورتوں اور بچوں پر خلیفہ بناتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کیا تو راضی نہیں ہوتا کہ میں تجھ کو وہ مرتبہ دیتا ہوں جو کہ موسی نے ہارون کو دیا تھا جبکہ وہ پہاڑ پر جاتے ہوئے ان کو خلیفہ بنا گئے تھے۔لیکن بارون تو موسیٰ کے بعد نبی تھے مگر تو میرے بعد نبی نہیں۔اور آپ کو اپنے بعد خلیفہ مقرر فرما کر فرمایا کہ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزَلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوسى۔آپ نے تمام جنگوں میں کار ہائے نمایاں کئے ہیں۔کئی جنگوں میں قَالَ (عَلَيْهِ السَّلَامُ يَا عَلِيٌّ اَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي كَهَا رُوْنَ مِنْ مُوسَىٰ غَيْرَ إِنَّكَ لَسْتَ نَبِيًّا (طبقات کبیر جلد ۵ ص ۱۵) ( ترجمہ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اے علی ! کیا تو خوش نہیں کہ تو میرے بعد ایسا ہی خلیفہ ہے جس طرح موسیٰ کے بعد ہارون تھے مگر فرق یہ ہے کہ میرے بعد تو نبی نہیں گویا لَسْتَ نَبِيًّا نے لَا نَبِيَّ بَعْدِی کی تشریح کر دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خطاب عام نہیں تھا بلکہ وہ خاص حضرت علی کے لئے تھا۔تو میرے بعد میری غیر حاضری میں میرا خلیفہ ہوگا۔جس طرح پر حضرت موسی کے بعد حضرت ہارون خلیفہ تھے۔[70]