اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 25
غضب و عاریت کسی شخص کی کوئی چیز غصب کر لیتا ( چھین لینا ) یا جنسی خوشی اور مذاق میں اڑا لیتا سخت منع ہے اگر کوئی شخص خود بخو دخوش ہوکر کسی کو کوئی چیز دیدے تو یہ اور بات ہے۔اگر کسی شخص نے کسی سے کوئی چیز چھینی ہو تو اس پر فرض ہے کہ وہ اس کو واپس کر دے اور اگر وہ غصب کر دہ چیز اس سے ضائع ہو جائے تو اس کا فرض ہے کہ وہ اس کی قیمت ادا کرے یا وہ چیز مہیا کرے۔لوگوں کی فصلوں کو عمدا چرالینا، یہ بھی غصب میں ہی شامل ہے اس لئے یہ بھی منع ہے۔ہاں کسی سے کوئی چیز عارضی طور پر استعمال کرنے کے لئے مانگ کر لے لینا، مثلاً کسی سے زیور، بیل یا گھوڑا وغیرہ لے لینا اور پھر اسے استعمال کرنے کے بعد واپس کر دینا جائز ہے۔مگر یہ ضروری ہے کہ جو چیز عاریہ ( مانگ کر ) لی جائے وہ اپنے وعدہ کے مطابق اسی حالت میں ہی واپس کی جائے اگر بے احتیاطی سے ضائع ہو جائے تو پھر اس کو مہیا کر کے دینی پڑے گی۔کیونکہ عاریۂ دینا (امانت رکھنا ) سمجھا جاتا ہے اور امانت میں خیانت کرنا منع ہے۔[25]