اسلام کی کتب (چوتھی کتاب) — Page 55
55 تھے۔جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ڈر سے باہر سر نہ نکالتے تھے۔مگر آپ کی نرمی، رحم دلی اور لطف وکرم کی وجہ سے باہر نکل آئے اور امت میں تفرقہ برپا کرنے اور اسلام کو تباہ کرنے کی کوششوں میں لگ گئے۔اور خواہ مخواہ حضرت عثمان پر برس پڑے۔اور آپ پر طرح طرح کے الزامات لگا کر آپ کو خلافت سے علیحدہ کرنا چاہا۔مگر آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق خلافت سے علیحد ہ ہونے سے انکار کر دیا۔ان حالات کو دیکھ کر حضرت معاویہ نے آپ سے عرض کی کہ آپ میرے پاس ملک شام میں تشریف لے چلیں۔مگر آپ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ کی ہمسائیگی چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔اس پر انہوں نے عرض کی کہ میں آپ کی حفاظت کے لئے ایک لشکر بھیج دیتا ہوں۔( اُن دنوں حضرت معاویہ شام کے گورنر تھے۔مگر آپ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ کے دوسرے ہمسایوں یعنی مدینہ کے رہنے والوں کوتنگ کرنا نہیں چاہتا۔حضرت معاویہؓ نے عرض کی کہ پھر تو یہ لوگ آپ کو قتل کردیں گے۔آپ نے فرمایا۔حَسْبِيَ اللهُوَ نِعْمَ الْوَكِيْل۔آخر کچھ دنوں بعد ان معاندین اور آپ کے باغیوں نے جو ۳ ہزار کے قریب تھے مدینہ کا محاصرہ کر لیا۔اور آپ کو بڑی سخت تکالیف دیں۔نماز