اسلام کی کتب (چوتھی کتاب) — Page 49
49 تک آپ خون سے تر بتر تھے۔مگر اُس وقت اُن ظالموں کی نسبت جو خیالات آپ کے دل میں موجزن تھے وہ اُن الفاظ سے ظاہر ہیں جو اُس سنگساری کے وقت آپ کی زبان پر جاری تھے۔آپ خون پو نچھتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ اے خدا! ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ میں جو کچھ ان لوگوں کو کہتا ہوں سچ اور دُرست ہے۔اور یہ جو کچھ کر رہے ہیں اچھا سمجھ کر کر رہے ہیں۔اس لئے تو ان پر ناراض نہ ہو اور ان پر عذاب نازل نہ کر۔بلکہ ان کو سچائی کے قبول کرنے کی توفیق دے۔لیکن تکلیف کے وقت میں کیسے محبت سے بھرے ہوئے الفاظ کہے گئے ہیں۔کیا ان سے بڑھ کر ہمدردی کی مثال کہیں مل سکتی ہے؟ سچ چھپا نہیں رہتا۔آپ کی تعلیم کی خبریں باہر مشہور ہو ئیں۔اور بیٹرب نامی ایک شہر کے لوگ ( جسے اب مدینہ کہتے ہیں۔) حج کے لئے مکہ آئے تو آپ سے بھی ملے۔آپ نے ان کو اسلام کی تعلیم دی۔اور اُن کے دلوں پر اُس نے ایسا گہرا اثر کیا کہ اُنہوں نے واپس جا کر اپنے شہر کے لوگوں سے ذکر کیا اور ۷۰ آدمی دوسرے سال تحقیق کے لئے آئے۔جو سب اسلام لے آئے۔اور انہوں نے درخواست کی کہ آپ اُن کے شہر میں چلے جائیں۔مگر آپ نے اس وقت اُن کی بات پر عمل کرنا مناسب نہ سمجھا۔ہاں وعدہ کیا کہ جب ہجرت کا موقعہ ہوگا آپ مدینہ تشریف لائیں گے۔جب اہل مکہ کو معلوم ہوا کہ اب باہر بھی آپ کی تعلیم پھیلنی شروع ہوئی ہے تو