اسلام کی کتب (چوتھی کتاب) — Page 18
18 حرم میں جانے کے قابل ہو جاتا ہے۔محرم کے لئے ہدایات محرم کو چاہیئے کہ وہ ہر وقت علمیہ انگیر بکلہ اور نبیح وتحمید کہتا ہے۔یعنی :- اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَكَ وَلَا شَرِيكَ لَكَ اللهُ اكبر لا إلهَ إِلَّا الله اور سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلهِ " پڑھتا رہے اور اپنا تمام وقت انہی میں صرف کرے۔محرم نہا سکتا ہے مگر بغیر صابن کے۔کپڑے بھی دھوسکتا ہے۔بحری شکار بھی کر سکتا ہے۔مگر محرم کے لئے سلے ہوئے کپڑے پہنا مثلاً قمیص ہسلوار یا پاجامہ، کوٹ وغیرہ۔سر کو ڈھانکنا۔یعنی پگڑی یا ٹوپی وغیرہ پہننا۔(جرابوں اور موزوں وغیرہ سے بھی پر ہیز کرنا چاہیئے۔اگر جوتی نہ ہو تو مو زو کو ہی کاٹ کر جوتی کی طرح بنا کر پہن لینا جائز ہے۔خوشبو لگانا یا خوشبودار رنگوں سے رنگے ہوئے کپڑے مکہ شریف اور اس کے ارد گر دکا علاقہ حرم کہلاتا ہے۔(ترجمہ) اے میرے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔حاضر ہوں۔تیرا کوئی شریک نہیں۔میں حاضر ہوں۔تمام تعریفوں کا تو ہی مستحق ہے۔بادشاہت تیری ہے۔تیرا کوئی شریک نہیں۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔اللہ تمام نقصوں سے پاک اور تمام تعریفوں کا مستحق ہے۔