اسلام کی کتب (چوتھی کتاب) — Page 10
10 نصاب ( اس قدر مال کہ اُس پر زکوۃ فرض ہو ) موجودر ہے تو آخر سال پر جس قدر مال موجود ہو گا اسی کے حساب سے اس پر زکوۃ لگائی جائے گی۔اور اگر سال کے درمیان میں تمام مال بالکل ختم ہو جائے۔اور پھر سال کے آخر میں دوبارہ حاصل ہو جائے تو اس کا سال اس کے دوبارہ حاصل ہونے کے وقت سے ہی سمجھا جائے گا۔(۴) سال سے مراد قمری سال ہے۔شمسی سی سال مراد نہیں۔زکوۃ کے معاملہ میں ہر شخص کا سال اسی وقت سے شروع سمجھا جاتا ہے جب اس کے پاس اس قدر مال ہو جائے جس پرز کو ۃ واجب ہوتی ہے۔(۵) مقروض پر اس وقت زکوۃ فرض ہوگی جب اس کا مال قرضہ کو نکال کر بقدر نصاب باقی رہے۔لیکن اگر قرضہ مال کے برابر ہو یا زیادہ ہو تو مقروض پر کوئی زکوۃ نہیں۔(1) وہ جانور جو ز کوۃ میں دئے جائیں۔بیمار عیب دار اور ناقص نہیں ہونے چاہیئیں اور نہ اعلیٰ چیدہ جانور۔(<) نابالغ اور مجنون کے مال پر بھی زکوۃ فرض ہے۔اس کی طرف سے اس کے متولی کوز کو ۃ ادا کرنی چاہیئے۔اگر کسی شخص کو کوئی دفینہ ملے تو اس کا پانچواں حصہ زکوۃ میں ادا کرنا فرض ل چاند کے لحاظ سے سال سے سورج کے لحاظ سے سال سے زمین میں دبایا ہوا مال