اسلام کی کتب (تیسری کتاب) — Page 50
آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات بابرکات سے از حد درجہ کا عشق تھا۔اور ایسا عشق تھا کہ آجنگ کسی میں ایسا عشق نہیں دیکھا گیا۔آپ کو جو کچھ حاصل ہوا۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہی پیروی کے ذریعہ حاصل ہوا۔اور آپ کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے غیرت بھی بہت تھی۔آپ کو کوئی ہزاروں گالیاں دے۔آپ در گذر فرماتے تھے۔لیکن اگر آپ کے پیارے آقا کی شان میں کوئی شخص گستاخی کرتا تو آپ اس کی ہرگز برداشت نہیں کر سکتے تھے۔اور اس کے لئے آپ اس قدر غیرت دکھلاتے تھے جس کو فلم بیان نہیں کر سکتا۔قرآن شریف کی از حد درجہ کی علات آپ کے دل میں تھی۔آپ کے سب کام قرآن کریم و سنت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق تھے۔آپ ہر وقت ذکر الہی اور درود میں مشغول رہتے تھے۔آپ دُنیا میں ایسے زندگی ہر کرتے تھے جیسے مسافر۔آپ کو دنیا سے بالکل محبت نہ تھی۔ہمدردی خلق اللہ آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔آپ اپنی ساری عمر قلم کے ساتھ جہاد کرتے رہے۔حتی کہ جہاد کی حالت میں ہی آپ کا ۲۶ رمئی ۱۹۰۸ء مطابق ۲۴ ؍ ربیع الثانی ۱۳۲۶ھ کو وصال ہو گیا۔اللهم صل علیہ و علی مطاعه محمد الصلوة والسلام آپ کے بعد جماعت نے بالا تفاق حضرت حافظ حاجی حکیم مولوی نور الدین صاحب بھیروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آپ کا خلیفہ تسلیم کر لیا۔[50]