اسلام کی کتب (تیسری کتاب) — Page 26
ایک خدا کی پرستش کیا کرتے تھے۔اس عبادت میں آپ کو اسقدر لطف آتا تھا کہ آپ گئی دفعہ کئی کئی دن کی غذا گھر سے لے کر جاتے تھے۔اور کئی کئی دن اس غار میں رہتے تھے۔آخر جبکہ آپ چالیس سال کی عمر کے تھے۔آپ پر خدا کی طرف سے الہام نازل ہوا کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کر۔اور اس سے علم کی ترقی اور روحانی عزت اور ان علوم کے حصول کے لئے دُعا کر جو پہلے دنیا کو معلوم نہ تھے۔آپ کی طبیعت پر اس وحی کا ایسا اثر ہوا کہ آپ گھبرا کر گھر آئے۔اور اپنی بیوی حضرت خدیجہ سے کہا کہ مجھے ایسا الہام ہوا ہے۔میں ڈرتا ہوں کہ یہ میری آزمائیش ہی نہ ہو۔حضرت خدیجہ نے جو آپ کی ایک ایک حرکت کا غور سے مطالعہ کرتی تھی۔اس بات کو سن کر جواب دیا کہ نہیں۔ہر گز نہیں کہ خدا تعالی اس طرح آپ کو ابتلاء میں ڈالے حالانکہ آپ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں۔اور جو لوگ کام نہیں کر سکتے۔ان کی مدد کرتے ہیں۔اور آپ سے وہ اخلاق ظاہر ہوتے ہیں۔جو دنیا میں اور کسی سے ظاہر نہیں ہوتے۔اور آپ مہمانوں کی خوب خاطر و مدارات کرتے ہیں۔اور جو لوگ مصائب میں مبتلا ہیں۔اُن کی مدد کرتے ہیں۔یہ اُس عورت کی رائے ہے جو آپ کی پہلی بیوی تھی۔اور جو آپ کے تمام اعمال سے واقف تھی اور اس سے زیادہ سچا گواہ اور کون ہوسکتا ہے؟ کیونکہ انسان کی [26]