اسلام کی کتب (دوسری کتاب) — Page 27
سے زیادہ ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو نماز پوری پڑھنی چاہئیے ورنہ قصر کرنی چاہیئے۔اور کوئی شخص ہمیشہ سفر پر ہی رہے تو اُس کے لئے قصر نہیں۔جس وقت انسان شہر سے نکل جائے تو قصر شروع کر دے۔اور جس وقت شہر میں داخل ہو جائے۔اُس وقت پوری نماز پڑھے۔جمعہ جمعہ کا روز ایک اسلامی عظیم الشان تہوار ہے۔قرآن شریف نے خاص کر کے اس دن کو تعطیل کا دن ٹھہرایا ہے۔اور اس بارہ میں خاص ایک سورۃ قرآن شریف میں موجود ہے۔اس کا نام سُورَةُ الجمعة ہے۔اور اس میں حکم ہے کہ جب جمعہ کی اذان دی جائے تو تم دُنیا کا ہر ایک کام بند کر دو۔اور مسجدوں میں جمع ہو جاؤ۔نماز جمعہ اس کی تمام شرائط کے ساتھ ادا کرو۔اور جو شخص جمعہ عمد ا ترک کرتا ہے۔وہ سخت گنہگار ہے۔اور جس قدر جمعہ کی نماز اور خُطبہ سننے کی قرآن شریف میں تارکید ہے۔اس قدر عید کی نماز کی تاکید نہیں۔جمعہ کے دن صبح کی نماز میں پہلی رکعت میں الم السجدۃ اور دوسری رکعت میں سُورَة الدھر رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے۔جمعہ بیمار ، مسافر ، عورت، بچہ ، غلام ، نابینا اور قیدی کے سوا سب پر فرض ہے۔اگر یہ لوگ بھی جمعہ پڑھ لیں تو اُن کو بھی ثواب مل جاتا ہے۔[27]