اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 91
پھر کیرن آرم سٹرانگ ہی لکھتی ہیں کہ : آخر یہ مغرب ہی تھا نہ کہ اسلام، جس نے مذہبی مباحثات پر پابندی لگائی۔صلیبی جنگوں کے وقت تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یورپ دوسروں کے نظریات کو دبانے کی آرزو میں جنونی ہو چکا تھا اور جس جوش سے اس نے اپنے مخالفین کو سزائیں دی ہیں ، مذہب کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔اختلاف رائے کرنے والوں پر مظالم Protestants پر Catholics کے مظالم اور اسی طرح Catholics پر Protestants کے مظالم کی بنیاد اُن پیچیدہ مذہبی عقائد پر تھی جن کی اجازت یہودیت اور اسلام نے ذاتی معاملات میں اختیاری طور پر دی ہے۔عیسائی ملحدانہ عقائد کا یہودیت اور اسلام سے کوئی تعلق نہیں جن کے مطابق الوہیت کے بارے میں انسانی تصورات کو نا قابلِ قبول حد تک لے جاتا ہے بلکہ اسے مشرکانہ بنادیتا ہے۔“ (ایضاً صفحہ 27) اپنی بسانٹ (Annie Besant) اپنی کتاب The Life and Teachings of Muhammad میں لکھتی ہے کہ: ایک ایسے شخص کیلئے جس نے عرب کے عظیم نبی کی زندگی اور اس کے کردار کا مطالعہ کیا ہو اور جو جانتا ہو کہ اُس نبی نے کیا تعلیم دی اور کس طرح اُس نے اپنی زندگی گزاری، اس کیلئے ناممکن ہے کہ وہ خدا کے انبیاء میں سے اس عظیم نبی کی تعظیم نہ کرے۔میں جو باتیں کہہ رہی ہوں اُن کے متعلق بہت لوگوں کو شاید پہلے سے علم ہو گا لیکن میں جب بھی ان باتوں کو پڑھتی ہوں تو مجھے اس عربی استاد کی تعظیم کیلئے ایک نیا احساس پیدا ہوتا ہے اور اُس کی تعریف کا ایک نیا رنگ نظر آتا ہے۔“ (Annie Besant۔The Life and Teachings of Muhammad Theosophical Publishing House۔, India۔p۔4 (1932)) 91