اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 92

ہیں کہ: روتھ کرینسٹن (Ruth Cranston) اپنی کتاب World Faith میں لکھتی محمد عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کبھی بھی جنگ یا خونریزی کا آغاز نہیں کیا۔ہر جنگ جو انہوں نے لڑی ، مدافعانہ تھی۔وہ اگر لڑے تو اپنی بقا کو برقرار رکھنے کے لئے اور ایسے اسلحے اور طریق سے لڑے جو اُس زمانے کا رواج تھا۔یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ چودہ کروڑ عیسائیوں میں سے جنہوں نے حال ہی میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد انسانوں کو ایک بم سے ہلاک کر دیا ہو، کوئی ایک قوم بھی ایسی نہیں جو ایک ایسے لیڈر پر شک کی نظر ڈال سکے جس نے اپنی تمام جنگوں کے بدترین حالات میں بھی صرف پانچ یا چھ سو افراد کو تہ تیغ کیا ہو۔عرب کے نبی کے ہاتھوں ساتویں صدی کے تاریکی کے دور میں جب لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے ہوں، ہونے والی ان ہلاکتوں کا آج کی روشن بیسویں صدی کی ہلاکتوں سے مقابلہ کرنا ایک حماقت کے سوا کچھ نہیں۔اس بیان کی تو حاجت ہی نہیں جو قتل انکوزیشن (Inquisition) اور صلیبی جنگوں کے زمانے میں ہوئے جب عیسائی جنگجوؤں نے اس بات کوریکارڈ کیا کہ وہ ان بے دینوں کی کٹی پھٹی لاشوں کے درمیان ٹخنے ٹخنے خون میں پھر رہے تھے۔“ (Ruth Cranston۔World Faith۔Harper and Row Publishers۔, NY۔P۔155 (1949)) گاڈ فرے ہیکنز (Godfrey Higgins) لکھتے ہیں کہ: اس بات سے زیادہ عام طور پر کوئی بات سننے میں نہیں آتی کہ عیسائی پادری محمد (ﷺ) کے مذہب کو اُس کے تعصب اور غیر رواداری کی وجہ سے گالیاں دیتے ہیں، عجیب یقین دہانی اور منافقت ہے یہ۔کون تھا جس نے سپین سے ان مسلمانوں کو جو عیسائی ہو چکے تھے، بھگایا تھا کیونکہ وہ بچے عیسائی نہ تھے ؟ اور کون تھا جس نے میکسیکو اور پیرو میں لاکھوں لوگوں کو تہ تیغ کر دیا تھا اور اُن کو غلام بنالیا تھا کیونکہ وہ عیسائی نہ تھے ؟ اور کیا ہی عمدہ اور مختلف نمونہ تھا جو مسلمانوں نے یونان میں دکھایا۔صدیوں تک 92