اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 2 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 2

رد عمل جو غم و غصہ کا ہے وہ ایک لحاظ سے تو ٹھیک ہے کہ پیدا ہونا چاہئے تھا، گو بعض جگہ اس کا اظہار غلط طور پر ہورہا ہے۔ہمارے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقام ہے دنیا دار کی نظر اس تک نہیں پہنچ سکتی۔اس لئے دنیا دار کو یہ احساس ہی نہیں ہے کہ کس حد تک اور کس طرح ہمیں ان باتوں سے صدمہ پہنچا ہے۔ایسی حرکتیں دنیا کا امن برباد کرتی ہیں۔نیوزی لینڈ کے ایک نمائندہ کا اس بات پر زور تھا کہ تم نے بڑے سخت الفاظ میں کہا ہے کہ یہ لوگ جہنم میں جائیں گے۔یہ تو بڑے سخت الفاظ ہیں اور تم بھی اُن لوگوں میں شامل ہو گئے ہو۔الفاظ تو یہ نہیں تھے لیکن ٹون ( Tone) سے یہی مطلب لگ رہا تھا کیونکہ وہ بار بار اس سوال کو دوہرا رہا تھا۔اُس کو میں نے یہ کہا کہ ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کے پیاروں کے بارہ میں ایسی باتیں کریں، اُن کا استہزاء کرنے کی کوشش کریں اور کرتے چلے جائیں اور کسی طرح سمجھانے سے باز نہ آئیں اور تمسخر اور ہنسی کا نشانہ بناتے رہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی بھی ایک تقدیر ہے وہ چلتی ہے اور عذاب بھی آسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ پکڑتا بھی ہے ایسے لوگوں کو ہم شدت پسند مظاہرے اور توڑ پھوڑ پسند نہیں کرتے اور تم کبھی کسی احمدی کو نہیں دیکھو گے کہ اس کے فساد اور مفسدانہ رد عمل کا حصہ ہوں۔خبریں پڑھنے والے نے میرا یہ جواب دکھا کر پھر آگے تبصرہ کیا کہ یہ جماعت مسلمانوں کی اقلیتی جماعت ہے اور ان کے ساتھ بھی مسلمانوں کی طرف سے اچھا سلوک نہیں ہوتا۔بہر حال دیکھتے ہیں کہ یہ پیغام جو ان کے خلیفہ نے دیا ہے، اس کی آواز اور پیغام کا احمدی مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مسلمانوں پر بھی کوئی اثر ہوتا ہے یا نہیں؟۔۔۔نیوز نائٹ جو یہاں کا چینل ہے، اُس کا نمائندہ کہنے لگا کہ میں نے یہ فلم دیکھی ہے۔اس میں تو کوئی ایسی بات نہیں جس پر اتنا زیادہ شور مچایا جائے اور مسلمان اس طرح رد عمل دکھا ئیں۔اور تم نے بھی بڑی تفصیل سے اس پر خطبہ دے دیا ہے اور بعض جگہ بڑے سخت الفاظ میں اس کو رڈ کیا ہے۔یہ تو ہلکا سا مذاق تھا۔انا للہ۔یہ تو ان لوگوں کے اخلاقی معیار کی حالت ہے۔میں نے اُسے کہا کہ پتہ نہیں تم نے کس طرح دیکھا اور تمہارا کیا معیار ہے؟ تم اُس مقام کو جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مسلمانوں کی نظر 2