مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 79

گورداسپور میں پٹواری ہیں جنہوں نے باوجود اپنی کم سرمائیگی کے ایک سو روپیہ اس کام کے لئے چندہ دیا ہے اور میں خیال کرتا ہوںکہ یہ سو روپیہ کئی سال کا ان کا اندوختہ ہو گا۔اور زیادہ وہ قابلِ تعریف اس سے بھی ہیں کہ ابھی وہ ایک اور کام میں سو رما؍ وپیہ چندہ دے چکے ہیں۔اور اب اپنے عیال کی بھی چنداں پروا نہ رکھ کر یہ چندہ پیش کر دیا۔جَزَاہُمُ اللّٰہُ خَیْرَالْجَزَآئِ۔دوسرے مخلص جنہوں نے اس وقت بڑی مردانگی دکھلائی ہے میاں شادیخاں لکڑی فروش ساکن سیالکوٹ ہیں۔ابھی وہ ایک کام میں ڈیڑھ سو روپیہ چندہ دے چکے ہیں۔اور اب اس کام کے لئے دو سو روپیہ چندہ بھیج دیا ہے۔اور یہ وہ متوکل شخص ہے کہ اگر اس کے گھر کاتمام اسباب دیکھا جائے تو شایدتمام جائداد پچاس روپیہ سے زیادہ نہ ہو۔انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’’ چونکہ ایام قحط ہیں اور دنیوی تجارت میں صاف تباہی نظر آتی ہے تو بہتر ہے کہ ہم دینی تجارت کر لیں۔اس لئے جو کچھ اپنے پاس تھا۔سب بھیج دیا۔اور درحقیقت وہ کام کیا جو حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔شاید ہمارے بعض مخلصوں کو معلوم نہیں ہو گا کہ یہ منارۃ المسیح کیا چیز ہے اور اس کی کیا ضرورت ہے۔سو واضح ہو کہ ہمارے سیّد و مولیٰ خیر الاصفیا خاتم الانبیاء سیّدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ پیشگوئی ہے کہ مسیح موعودجو خدا کی طرف سے اسلام کے ضعف اور عیسائیت کے غلبہ کے وقت میں نازل ہو گا اس کا نزول ایک سفید منارہ کے قریبہو گا جو دمشق سے شرقی طرف واقع ہے۔اس پیشگوئی کے پورا کرنے کے لئے دو مرتبہ اسلام میں کوشش کی گئی ہے۔اوّل ۷۴۱ھ سے پہلے دمشق کی مشرقی طرف سنگِ مرمر کاپتھر سے ایک منارہ بنایا گیا تھا جو دمشق سے شرقی طرف جامع اموی کی ایک جزو تھی اورکہتے ہیں کہ کئی لاکھ روپیہ اس پرخرچ آیا تھا اور بنانے والوں کی غرض یہ تھی کہ تا وہ پیشگوئی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری ہو جائے۔لیکن بعداس کے نصاریٰ نے اس منارہ کو جلادیا۔پھر اس حادثہ کے بعد ۷۴۱ھ میں دوبارہ کوشش کی گئی کہ وہ منارہ دمشق کی شرقی طرف پھر طیار کیاجائے۔چنانچہ اس منارہ کے لئے بھی غالباً ایک لاکھ روپیہ تک چندہ جمع کیا گیا۔مگر خدا تعالیٰ کی قضا و قدر سے جامع اموی کو آگ لگ گئی اور وہ منارہ بھی جل گیا۔غرض