مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 69
بانہ من المناھی عند نزول المسیح فی الامۃ۔ولا یخفٰی انّ الزمان قد بدّل احوالہ تبدیلا صریحًا وترک طورًا قبیحًا ولا یوجد فی ھٰذا الزمان ملک یظلم مسلمًا لاسلامہ۔ولا حاکم یجور لدینہ فی احکامہ۔فلاجلِ ذالک بدل اللّٰہ حکمہ فی ھٰذا الاوان۔ومنع ان یحارب للدین اوتقتل نفس لاختلاف الادیان۔وامران یتم المسلمون حججھم علی الکفار۔ویضعوا البراھین موضع السیف البتار۔ویتورّدوا موارد البراہین البالغۃ و یعلوا قنن البراھین العالیۃ حتی تطأ اقدامھم کل اساس یقوم علیہ البرھان۔ولا یفوتھم حجۃ تسبق الیہ الاذھان۔ولا سلطان یرغب فیہ الزمان۔ولا یبقی شبھۃ یولّدھا الشیطان۔وان یکونوا فی اتمام الحجج مستشفّین۔و اراد ان بقیہ ترجمہ۔کی تصریح فرما دی ہے اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کھول کر بیان کر دی ہے کہ اُمت ِ اسلامیہ میں مسیح کے نزول کے وقت جہاد ممنوع ہوگا۔اور یہ بات مخفی نہیں کہ زمانہ کے حالات صریح طورپر بدل گئے ہیں اور اس نے بُرا طریق ترک کر دیا ہے اور اس زمانہ میں کوئی ایسا بادشاہ نہیں پایا جاتا جو ایک مسلمان پر صرف اسلام کی وجہ سے ظلم کرتا ہو اور نہ کوئی ایسا حاکم ہے جو اپنے احکام میں محض اس کے دین کی وجہ سے اس پر ظلم کرتا ہو۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں اپنے حکم کو بد ل دیا اور اس نے اس بات سے منع کر دیا کہ دین کی خاطر جنگ و جدال کی جائے یا کسی شخص کو محض اختلافِ دین کی وجہ سے قتل کیا جائے اور اس نے حکم دیا کہ مسلمان کفار پر اتمام حجت کریں اور دلائل کو تیز دھار والی تلواروں کی جگہ دیں اور بلیغ براہین کے گھاٹوں پر وارد ہوں اور براہین عالیہ کی چوٹیوں پر چڑھیں تا ہروہ بناء ان کے قدموں کے نیچے ہو جس پر برہان قائم ہے اور ان سے کوئی ایسی حجت فوت نہ ہو جس کی طرف اذہان سبقت لے جائیں اور کوئی ایسی دلیل فوت نہ ہو جس میں زمانہ رغبت کرے اور شیطان کا پیدا کردہ کوئی شُبہ باقی نہ رہے اور اتمام حجت کے سلسلہ میں وہ دوسروں کی شفاء کا موجب بن جائیں۔اور اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ مسئلہ