مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 458
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ تمام مریدوں کے لئے عام ہدایت مجھے معلوم ہوا ہے کہ جناب وائسرائے گورنر جنرل ہند اس تجویز کو طاعون کے علاج کے لئے پسند فرماتے ہیں کہ جب کسی گائوں یا شہر کے کسی محلہ میں طاعون پیدا ہو تو یہ بہترین علاج ہے کہ اس گائوں یا اس شہر کے اس محلہ کے لوگ جن کا محلہ طاعون سے آلودہ ہے فی الفور بلاتوقف اپنے اپنے مقام کوچھوڑ دیں اور باہر جنگل میں کسی ایسی زمین میں جو اس تاثیر سے پاک ہے رہائش اختیار کریں سو میں دلی یقین سے جانتا ہوں کہ یہ تجویز نہایت عمدہ ہے اور مجھے معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہیے کہ بلاتوقف اس شہر کو چھوڑ دیں ورنہ وہ خدا تعالیٰ سے لڑائی کرنے والے ٹھہریں گے۔عذاب کی جگہ سے بھاگنا انسان کی عقلمندی میں داخل ہے۔کتب تاریخ میں لکھا ہے کہ جب خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ فتوحات ملک شام کے بعد اس ملک کو دیکھنے کے لئے گئے تو کسی قدر مسافرت طے کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس ملک میں سخت طاعون کا زور ہے تب حضرت عمرؓ نے یہ بات سنتے ہی واپس جانے کا قصد کیا اور آگے جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا تب بعض لوگوں نے عرض کی کہ یا خلیفۃ اللہ کیوں آپ ارادہ کو ملتوی کرتے ہیں کیا آپ خدا کی تقدیر سے بھاگتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں میں ایک تقدیر سے بھاگ کر دوسری تقدیر کی طرف جاتا ہوں سو انسان کو نہیں چاہیے کہ دانستہ ہلاکت کی راہ اختیار کرے۔