مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 457
فیصلہ کی آسان راہ ۱؎ ایک صاحب نے حضرت کی خدمت میں ذکر کیا کہ حضور کی اس تحریر پر جو اخبار میں چھپی ہے کہ اگر ہمارے مکذب ہمارے شائع کردہ الہام الٰہی کو کہ اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ کو افترا سمجھتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ محض ہم نے اپنے دل سے یہ بات بنائی ہے اور یہ خدا کا کلام نہیں جو ہم پر نازل ہواہے اور صرف اتفاقی طور پرہمارے گھر کی حفاظت ہو رہی ہے تو چاہیے کہ ہمارے مکذبوں میں سے بھی کوئی ایسا الہام شائع کرے تب اس کو جلد معلوم ہو جاوے گا کہ افترا کا کیا نتیجہ ہے۔اس بات کو پڑھ کر بعض مخالف یہ کہتے ہیں کہ ہم مفتری نہیں ہیں جو خدا تعالیٰ پر افترا کریں۔ہم کس طرح ایسا الہام شائع کر سکتے ہیں ؟ حضرت نے فرمایا:۔یہی بات ہے جو ہم ان کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر افتراء کرکے کوئی شخص بچ نہیں سکتا اگر یہ کلام ہم پر خدا تعالیٰ کی طر ف سے نازل نہ ہوتا اور ہمارا افترا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کلمہ کے مطابق ہمارے گھر کی حفاظت کیوں کرتا ؟ جبکہ ایک کلام صریح الفاظ میں پورا ہوگیا ہے تو پھر اس کے ماننے میں کیا شک ہے لیکن ہم نے مخالفین کے واسطے فیصلہ کی دوسری راہ بھی بیان کر دی ہے کہ جو شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ یہ انسان کا افترا ہے تو اسے لازم ہے کہ وہ قسم کھا کر ان الفاظ کے ساتھ بیان کرے کہ یہ انسان کا افترا ہے خدا تعالیٰ کا کلام نہیں وَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلٰی مَنْ کَذَّبَ وَحْیَ اللّٰہِ۔اگر کوئی شخص ایسی قسم کھاوے تو خدا تعالیٰ اس قسم کا نتیجہ ظاہر کردے گا۔چاہیے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اور جعفرز ٹلی لاہوری اور ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب اور غزنوی صاحبان بہت جلد اس کی طرف توجہ کریں۔(بدر مورخہ ۱۱؍جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ ۶ کالم نمبر۲ ،۳) 1۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس فیصلہ کی آسان راہ کو قبول نہ کیا۔12 (عبد اللطیف بہاولپوری)