مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 438
کالدائرۃ۔وکان صاحب الدُّور المنجّدۃ، والقصور المُشیّدۃ۔وما رأی داہیۃ فی مُدّۃ عمرہ، ورأی کلّ یوم زیادۃ زمرہ۔وکان لہ حاصلًا ما أمکن فی الدّنیا من الآلاء والنعمائِ، وکان لا یعلم ما یوم البأسائِ وما ساعۃ الضرّائِ۔وکان یلبس الدیباج، ویرکب الہِمْلاج، وکان یظنّ أنہ یرزق عمرًا طویلًا غافلًا من سہم المنایا، وکان یزجّی النہار کالمسجودین والمعبودین والمعظَّمین، ویفترش الحشایا بالعشایا۔وإذا أنـزل اللّٰہ قدرہ لیُصدّق ما قلتُ فی مآل حیاتہ، فانقلبت أیّام عیشہ ومسرّاتہ، وأراہ اللّٰہ دائرۃ السَّوء ، ولُدغ کلَّ لَـدْغٍ مِن حَیَواتہ، أعنی أفاعی أعمالِہ وسیّآتہ۔فعاد الہِمْلاجُ۱؎ قَطُوفًا ۲؎، وانقلب الدیباج صوفًا، وہلمّ جرّا إلٰی أنّہ أُخرج من بلدتہ التی بناہا بصرف الخزائن، وحُرّم علیہ کلّ ما شَیّد من المقاصر ببذل ۱۔المھلاج : الدابۃ الحسنۃ السیر فی سرعۃ و سھولۃ:12 2۔القطوف: الدابۃ الضیقۃ الخُطیٰ البطیئۃ السیر۔12 بقیہ حاشیہ۔ہوا تھا۔اوروہ بلند و بالا عمارات اور نہایت مضبوط محلات کا مالک تھا ،اور اس نے عمر بھر کسی مصیبت کا منہ نہ دیکھا تھا اور اپنے جتھے کو ہر روز تعداد میں بڑھتے ہوئے دیکھا تھا ، اور دنیا کی ہر ممکنہ نعمت اورآسائش اسے حاصل تھی اور وہ تنگی کے زمانہ اور تلخی کی گھڑی سے نا آشنا تھا ، اور حریر و دیباج کا لبا س زیب تن کرتا تھا ،تیز رفتا ر اور خوش و خرام سواریوں پر سوار ہوتا تھا۔اور موتوں کے تیر سے کلیتہً غافل ہو کر وہ یہی خیا ل کرتا تھا کہ و ہ عمر دراز پائے گا۔اور وہ ان لوگوں کی طرح دن گزارتا تھا جن کے سامنے لوگ سجدہ ریز ہوتے اور ان کی پرستش کرتے اور انہیں عظمت کی نگاہوں سے دیکھاجاتا ہے اور راتیں نرم و گداز بستروں پر بسر کرتا تھا لیکن جب اللہ نے اپنی تقدیر نازل فرمائی تاکہ وہ اس کی تصدیق کرے جو میں نے اس کی زندگی کے انجام کی نسبت کہا تھا۔تو اس کے عیش اور مسرتوں کا زمانہ پلٹ گیا اور اللہ نے اسے رنج و الم کا درد دکھایا۔اور اپنے ہی سانپوں سے وہ بری طرح ڈسا گیا۔یعنی اپنی ہی بد اعمالیوں اور بد کرداریوں کے سانپوں سے اور اعلیٰ چال والی سواری ۱ ؎بے ڈھنگی چال والی سواری المھلاج: ایسی سواری جو چلنے میں تیز اور اچھی چال رکھتی ہو۔12 القطوف: ایسی سواری جو چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہو اور چال میں سست ہو۔12