مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 340

ہیں- اگر مَیں اپنے اس بیان میں جھوٹا ہوں تو انصاف کے لئے اپنے اس معاملہ کو خدا کی عدالت کے سپرد کرتا ہوں- اس مسوّدہ پر یہ اعتراض مولوی مذکور نے کیا کہ الفاظ ’’خدا کے حضور میں وغیرہ وغیرہ‘‘ بھی قسم ہے صرف لفظ اقرار صالح رکھا جاوے اور معاملہ کی تصریح نہ کی جاوے- آخرکار بہت بحث کے بعد جو آخیری مسودّہ بتاریخ ۱۱؍ ماہ جون پیش کیا گیا وہ حسب ذیل لکھا جاتا ہے- بقیہ نوٹ۔قسم کھا کر فرمایا کہ مسیح موعود جو آنے والا ہے جو تمہارا امام ہوگا وہ تم میں سے ہی ہوگا یعنی اسی امت میں سے ہوگا، آسمان سے نہیں آئےگا۔پھر صحیح بخاری جلد نمبر ۴ صفحہ ۱۰۶ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قسموں کا ایک باب باندھا ہے۔اس باب میں بہت سی قسمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لکھی ہیںجو دس سے کم نہیں۔ایسا ہی صحیح نسائی جلد ثانی صفحہ ۱۳۸ کتاب الایمان والنذور میں صفحہ ۱۳۹ تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قسموںکا ذکر ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَسْتَنْۢبِـُٔوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِيْ وَ رَبِّيْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ یعنی تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ حق ہے کہہ مجھے خدا کی قسم ہے کہ یہ حق ہے۔ایسا ہی قرن شریف میں یہ آیت ہے : وَاحْفَظُوْۤا اَيْمَانَكُمْ ( المائدۃ : ۹۰ ) یعنی جب تم قسم کھاؤ تو جھوٹ اور بد عہدی اور بد نیتی سے اپنی قسم کو بچاؤ۔ایسا ہی قرآن شریف میںیہ آیت بھی ہے : اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ۰۰ وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَيْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ ( النور : ۷ ، ۸ ) یعنی شخص ملزم چار قسمیں خدا کی کھائے کہ وہ سچا ہے اور پانچویں قسم میں یہ کہے کہ اس پر خدا کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہے۔اب دیکھو اس جگہ نہ ایک قسم بلکہ ملزم کو پانچ قسمیں دی جاتی ہیں۔ہاں قرآن شریف کی رو سےلغو یا جھوٹی قسمیں کھانا منع ہے کیونکہ وہ خدا سے ٹھٹھا ہے اور گستاخی ہے اور ایسی قسمیں کھانا بھی منع ہے جو نیک کاموں سے محروم کرتی ہوں جیسا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی تھی کہ میں آئندہ مسطح صحابی کو صدقہ خیرات نہیں دوں گا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی: وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَيْمَانِكُمْ۠ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا۔یعنی ایسی قسمیں مت کھاوٴ جو نیک کاموں سے باز رکھیں۔