مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 255 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 255

بالخصوص جبکہ قحط کے دن بھی شدت کر تے جاتے ہیں اور طاعون۱؎ کے دن بھی ہیں اس لئے مَیں نے سخت گھبراہٹ کے وقت میں بلحاظ ہمدردی اس جماعت کی جس کو مَیں اپنے ساتھ رکھتا ہوں، اس انتظام کو اپنا فرض سمجھا اور نیز اس خیال سے بھی کہ عمر کا اعتبار نہیں لہذا مَیں چاہتا ہوں کہ غرباء اورضُعفاء کی ایک جماعت میرے ساتھ رہے اور جو میری باتوں کو سُنے اور سمجھے اگرچہ ہمارے سلسلہ کے ساتھ اور مصارف بھی لگے ہوئے ہیں لیکن میں سُنت انبیاء علیہم السّلام کے مطابق سب سے زیادہ اس فکر میں رہتا ہوں کہ ایک گروہ حق کے طالبوں کا ہمیشہ میرے پاس رہے۔اور نیز دُور دُور سے لوگ آویں اور اپنے اپنے شُبہات پیش کریں اور مَیں ان شُبہات کو دُور کروں اور نیز ایسے لوگ آویں جو خد اتعالیٰ کی راہ مجھ سے سیکھنا چاہتے ہیں اور نیز یہ کہ جو کچھ مَیں لکھوں وہ کتابیں چھپتی رہیں۔اگرچہ ہمارے ساتھ مدرسہ کا بھی تعلق ہے اور اس کا انتظام خرچ بھی ابھی ناقص اور بالکل ناقابل اطمینان ہی ہے اور مَیں یہ بھی خوب جانتا ہوں کہ جو لڑکے اس مدرسہ میں پڑھیں گے وہ نسبتاً کچھ نہ کچھ سچائی اور دینداری اور پرہیز گاری اور نیک چلنی کی راہ سیکھیں گے۔لیکن ان میں اور ہم میں بڑے پہاڑ اور کانٹے اور شور دریا ہیں۔بہت تھوڑے ہیں جو اُن سب کو چیر کر ہم تک پہنچ سکتے ہیں ورنہ عموماً سب پڑھنے والے اپنی دنیا کے لئے مر رہے ہیں اور اس کتا کی مانند ہیں جو ایک دفن کئے ہوئے مُردار کی مٹی اپنے پیروں سے کھودتا ہے اور جب وہ مُردار ننگا ہو جاتا ہے تو اُسے کھاتا ہے۔اسی طرح ان پڑھنے والوں میں بڑا گروہ تو ایسا ہی ہے کہ اس مُردار کی تلاش میں ہیں اور جب وہ مُردار انہیں مل گیا تو پھر ہم کہاں اور وہ کہاں۔آخر انہیں باپوں کے وہ ۱؎ چونکہ شرعاً یہ امر ممنوع ہے کہ طاعون زدہ علاقہ کے لوگ اپنے دیہات کو چھوڑ کر دوسری جگہ جائیں اس لئے میں اپنی جماعت کے ان تمام لوگوں کو جو طاعون زدہ علاقوں میں ہیں منع کرتا ہوں کہ وہ اپنے علاقوں سے نکل کر قادیان یا کسی دوسری جگہ جانے کا ہرگز قصد نہ کریں اور جہاں تک ممکن ہو دوسروں کو بھی روکیں۔اپنے مقامات سے نہ ہلیں۔توبہ و استغفار کریں اور راتوں کو اُٹھ کر دعائیں کریں کہ یہی ضروری چیز اورحرز ہے۔منہ