مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 231
و ظنّوا فیھم ظن السوء و قلبوا امورھم و درحق ایشاں گمانِ بدرا در دل راہ بدہد و از راہ اور ان کی نسبت بد گمانی کرتی اور لڑائی اور مقابلہ کر کے ان کے بالمعاوضۃ و المقابلۃ و المجادلۃ۔وما تأدّ بوا معـھم و ما انقادوا ستیزد آویز کاروبار ایشاں را شیرازہ وایکند و در رنگِ سعادت منداں معاملات کو درہم برہم کرتی ہے اور وفاداروں اور سعادت مندوں کی طرح لِاَوامر ھم کأھل الوفاء والسعادۃ و ارادوا ان یقطعوا ما وفاکیشاں با ایشاں رفتار نہ نماید و از قبول احکام ایشاںسرباز بزند و بخواہد کہ اُن سے بادب پیش نہیں آتی اور ان کے حکموں کو نہیں مانتی اور خدا کے جوڑے ہوئے وصل اﷲ و ید فعوا ما اتی بہ اﷲ بالحمکۃ العظمیۃ۔الثالث آںچیز را ببرد کہ خدا پیوستن آنرا می خواہد و آں چیز را دفع بکند کہ خدا آنرا نظر بر مصالح بزرگ آوردہ سوم آنکہ کو کاٹنا چاہتے اور دفع کرتے ہیں اس شے کو جسے خدا بڑی بھاری مصلحت سے لایا ہے۔تیسرا اٰذا ضنوابقبول امام بعث علٰی رأس المائۃ۔وارسل چوں در قبول کردن آں امام بخل بورزند کہ بر سر صد مبعوث شدہ۔و با دلائل جب لوگ اس امام کے قبول کرنے میں بخل کریں جو صدی کے سر پر مبعوث ہوا۔اور باالدلائل الساطعۃ۔و جحدوا باٰیاتہ و استیقنتھا روشن آمدہ و دانستہ از بخل و کمینگی نشانہائے ویرا روشن دلیلوں کے ساتھ اسے بھیجا گیا ہو اور جان بوجھ کر بخل اور کمینہ پن سے اس کے نشانوں انفسھم بالبخل والدناء ۃ۔و اٰ ذوہ و حقروہ و کفّروہ انکار بنمایند و بر آزار و تکفیر و تحقیرش کمر بہ بندند کا انکار کریں اور اس کی ایذادہی اور تحقیر اور تکفیر کریں